BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 August, 2005, 09:40 GMT 14:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی پارلیمان پر حملہ، گیلانی بری

افضال اور گیلانی
افضل کی سزائے موت برقرار رہی لیکن پروفیسرگیلانی تمام الزامات سے بری ہو گئے
چار برس قبل بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے حملے کے معاملے میں سپریم کورٹ نے دو ملزمان پروفیسر عبدالرحمن گیلانی اور نوجوت سندھو عرف افشاں کو بری کر دیا ہے۔

عدالت نے ایک مجرم افضل کی پھانسی کی سزا برقرار رکھی ہے جبکہ دوسرے ملزم شوکت حسین کی موت کی سزا کو دس برس قید اور پچیس ہزار روپے جرمانے سے بدل دیا ہے۔

سپریم کورٹ میں دو اپیلیں دائر کی گئی تھیں۔ ایک اپیل دلی پولیس کی جانب سے مسٹر گیلانی اور نوجوت کو بری کیے جانے کے خلاف تھی جبکہ دوسری اپیل اس معاملے کے دو مجرموں افضل اور شوکت کی طرف سے اپنی سزا کے خلاف تھی۔

دلی ہائی کورٹ نےاس معاملے کے دو ملزمان نوجوت سندھو عرف افشاں اور دلی یونیورسٹی کے پرفیسر عبدالّرحمن گیلانی کو بری کر دیا تھا جبکہ دو مجرموں افضل اور شوکت کو خصوصی عدالت کی جانب سے دی گئی موت کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔

تیرہ دسمبر سنہ دو ہزار ایک کو پانچ شدت پسندوں نے ہندوستان کی پارلیمنٹ پر حملہ کیا تھا۔ پانچوں حملہ آور پولیس کے ساتھ جھڑپ میں مارے گئے تھے۔

پولیس نے اس معاملے میں چار افراد شوکت عزیز، افضل، عبدالرحمن گیلانی اور نوجوت سندھو کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ ایک خصوصی عدالت نے ان چاروں ملزموں کو قصور وار ٹھہرایا تھا۔ عدالت نےتین افراد کو موت کی سزا
سنائی تھی جبکہ نوجوت کو پانچ برس کی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

News image
تیرہ دسمبر سنہ دو ہزار ایک کو پانچ شدت پسندوں نے بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کیا تھا

پروفیسرگیلانی نے اس فیصلے کے خلاف دلی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی اور دلی پونیورسٹی کےاساتذہ اور بہت سی غیر سرکاری تنطیموں نے انکی حمایت کا اعلان کیاتھا۔ سابق وزیرِ قانون رام جیٹھ ملانی جیسے بڑے وکیلوں نے ان کی وکالت کرنے کا اعلان کیا تھا اور پھر بحث کے بعد ہائی کورٹ نے مسٹر گیلانی اور نوجوت کو بری کرد تھا۔

مسٹر گیلانی کے وکیلوں کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف ثبوت صرف ٹیلیفون پر ہوئی بات چیت ہے اور اس کی بنیاد پر فیصلہ نہیں سنایا جا سکتا۔ اس مقدمے پر پورے ملک کی نگاہیں لگی ہوئی تھیں۔

ہندوستان نے پارلیمنٹ پر حملے کے لیے ایک شدت پسند تنظیم جیش محمد پر الزام عائد کیا تھا۔ حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان حالات کشیدہ ہوگئے تھے۔ دونوں ملکوں نے سرحد پر فوجیں تعینات کر دی تھیں اور یہ سلسلہ کئی ماہ تک جاری رہا۔ بالاخر بین الاقوامی دباؤ کے بعد کشیدگی ختم ہوئی اور دونوں ممالک نے سرحد سے فوجیں ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد