| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی پارلیمان حملہ: دو ملزمان بری
بھارت میں اپیل کی سماعت کرنے والی ایک عدالت نے دسمبر دو ہزار ایک میں بھارتی پارلیمان پر حملے کے دو ملزمان کی سزا ختم کرکے انہیں بری کرنے کا حکم دیا ہے۔ پروفیسر سید عبدالرحمان کو انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت سزائے موت سنائی گئی تھی، جبکہ ایک اور ملزم کی بیوی نؤجوت سندھو یا افشاں گورو کو پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ دہلی ہائی کورٹ نے ان کی بریت کا حکم ناکافی شہادتوں کی بنیاد پر سنایا ہے۔ تاہم اس مقدمہ میں سزائے پانے والے دو دیگر ملزمان محمد افضل اور شوکت حسین کی موت کی سزائیں برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ دونوں کو سری نگر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ شوکت حسین افشاں گورو کے شوہر ہیں جنہیں اس مقدمہ میں اب بری کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ حملے کے وقت ملزمان میں سے کوئی بھی موقعۂ واردات پر موجود نہیں تھا تاہم حکومت نے ان پر ملک کے خلاف جنگ اور قتل کی سازش کرنے کے الزامات لگائے تھے۔ بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں کا تعلق شدت پسند تنظیم جیش محمد سے ہے جو کشمیر کی علیحدگی کے لئے سرگرم ہے۔ بھارتی حکومت پاکستان پر کشمیر میں کارروائیاں کرنے والے شدت پسندوں کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ وہ کشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت کرتا ہے۔ اس حملے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے تھے اور دنوں نے سرحدوں پر تقریباً دس لاکھ فوجی تعینات کر دیئے تھے۔ تیرہ دسمبر دو ہزار ایک کو ہونے والے اس حملے میں پانچ حملہ آوروں سمیت نو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ حملے کے وقت اسمبلی میں وفاقی وزراء سمیت تقریباً تین سو ارکان پارلیمان موجود تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||