BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 February, 2005, 16:04 GMT 21:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گیلانی پرحملہ دانشوروں میں غصہ

پروفیسر گیلانی
سپریم کورٹ نے پروفیسر گیلانی پر حملے کو تکلیف دہ بتایا ہے۔
ملک ميں حقوق انسانی کی تنظيموں، دانشوروں اور طلباء نے پروفیسر اے آر گیلانی پر قاتلانہ حملے کے خلاف احتجاج کیا ہے اور اس کی سخت مذمت کی ہے۔

تنظیموں نے اس پورے معاملے میں پولیس پر بھی شک و شبہ کا اظہار کیا ہے اور سی بی آئی سے اسکی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔

پروفیسر عبدالرحمن گیلانی کا آپریشن ہو چکا ہے۔ انہيں تین گولیاں لگی ہیں اور وہ دلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس ( ایمس ) کے آئی سی یو میں موت و زندگي کی کشمکش ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق وہ خطرے سے باہر ہیں۔ لیکن انکی حالت میں بہت معمولی بہتری آئی ہے۔

اس دوران حقوق انسانی کی تنظیموں، دانشور، یونیورسٹیز کے پروفیسرز اور طلباء نے مسٹر گیلانی پر حملے کے خلاف پولیس ہیڈ کواٹر پر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین نے مرکزی حکومت اور دلی پولیس کے خلاف نعرے بازی کی اور قاتلانہ حملے کیلئے پولیس پر بھی شک و شبہ ظاہر کیا ہے۔

سماجی کارکن این ڈی پنچولی نے بی بی سی کو بتایا ’ چونکہ دلی پولیس پروفیسر گیلانی کا ہر وقت تعاقب کرتی تھی اور ان کی کارروائیوں پر پولیس کی سخت نظر تھی۔اس لئے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ پولیس کو یہ پتا نہ ہو کہ ان پر حملہ کس نے کیا ہے۔ پولیس کو سب پتہ ہے۔ حملہ آوروں کو فورا گرفتار کرنا چاہیئے۔‘

مسٹر پنچولی کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ حملے میں مسٹر گیلانی کا بری ہونا پولیس کے منہ پر ایک تماچا تھا۔ پولیس اس معاملے میں اپنا بغض نکالنا چاہتی تھی۔

اس لئے اس معاملے کی تفتیش سی بی آئی کرے۔ پولیس کو سب معلوم ہے۔

پولیس ہیڈ کواٹر کے باہر اساتذہ طلباء اور سماجی کارکنوں میں شدید غم و غصہ دیکھا گیا۔ حکومت اور پولیس کے خلاف سخت قسم کے نعرے بازي ہو رہی تھی۔

اس موقع پر معروف سماجی کارکن گوتم نولکھا کا کہنا تھا ’ پارلمنٹ حملے کے مقدمے کی سماعت سپریم کورٹ میں جاری تھی اور ایسا ممکن تھا کہ پروفیسر گیلانی بے قصور پا ئے جاتے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ’ ایسی صورت میں یہ بھی ممکن تھا کہ ان پولیس اہلکاروں کے خلاف کاروائی ہوتی جنہوں نے انکے خلاف جھوٹا مقدمہ گھڑا تھااس وجہ سے پولیس بھی شک کے دائرے میں آتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے آر ایس ایس یا بجرنگ دل نے ایسی حرکت کی ہو کیونکہ وہ تو عدالت میں بھی ان پر حملہ کر چکے ہیں‘۔

دلی پولیس کے دفتر کے سامنے مشہور شخصیات میں معروف ادیبہ اور سماجی کارکن اروندھتی راۓ بھی تھیں ۔ محترمہ راۓ کا کہنا تھا کہ پورا پارلیمنٹ معاملہ ہی مشکوک ہے۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ پارلیمنٹ پر حملے میں کون شامل تھا کون نہیں۔۔ کسے معلوم۔ چند لوگ مارے گيے تھے لیکن انکے متعلق کسی کو کچھ بھی نہیں معلوم ‘۔

ارون دھتی رائے نے مزید کہا ’صرف ایک فون کال کے شبہ پر مسٹر گیلانی کو جیل بھیج دیا گيا۔ موت کی سزا بھی ہوگئی تھی۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد پولیس انکے ہر قدم پر نظر رکھتی تھی اور اب اسے معلوم نہیں ہے کہ کس نے انہیں گولیاں ماری ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے۔ اس پورے معاملے کی حقیقت سامنے آنی چاہیئے‘۔

ادھر دلی پولیس نے ان تمام باتوں سے انکار کیا ہے۔ جوائنٹ پولیس کمیشنر رنجیت نارائن کا کہنا تھا ’ پولیس اے آر گیلانی کے پیچھے نہیں تھی اور اس واقعہ میں اسکا ہاتھ بھی نہیں ہے۔ گیلانی نے کبھی بھی پولیس کو نہیں بتایا کہ انکی جان کو خطرہ تھا۔ پولیس پر یہ الزمات بے بنیاد ہیں اور اس پورے معاملے کی تفتیش کی جاۓ گی‘۔

دوسری طرف سپریم کورٹ نے پروفیسر گیلانی پر حملے کو تکلیف دہ بتایا ہے۔ اور پولیس کو ایک ہفتے کے اندر معاملے کی تفتیش کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

ادھر گیلانی کے وکیل اور ماہر قانون داں رام جیٹھ ملانی نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ پروفیسر گیلانی نے ایک حلفیہ بیان داخل کیا تھا کہ پولیس سے انکی جان کو خطرہ ہے۔ اور آج کے واقعہ سے انکے شکوک کو تقویت ملی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد