پولیس حملے میں ملوث ہے: گیلانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلی پولیس پروفیسر سید عبدالرحمن گیلانی پر حملے کی تفتیش کی رپورٹ سرپیم کورٹ میں پیش کرنے والی ہے۔ پروفیسر گیلانی پر 8 فروری کی رات اس وقت قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا جب وہ اپنی وکیل سے ملنے ان کی رہائش گاہ پر گئے تھے۔ انہیں کم از کم تین گولیاں لگی ہیں اور وہ ہسپتال میں ہیں۔ پروفیسر گیلانی کی وکیل نندیتا ہکسر نے الزام لگایا ہے کہ پولیس گیلانی پر حملے کے لیے خود گیلانی کو ہی ملزم قرار دینے میں لگی ہوئی ہے۔ اس دوران مسٹر گیلانی نے پولیس کو جو بیان دیا ہے اس میں انہوں نے حملے کے لیے خود پولیس پر شک ظاہر کیا ہے۔ پروفیسر گیلانی نے ایک دستخط شدہ بیان میں کہا ہے کہ یہ بات صرف انہیں یا ان کے وکیل کو معلوم تھی کہ وہ اپنی وکیل سے ملنے جارہے ہیں۔ تیسرا شخص اس کے بارے میں تبھی جان سکتا تھا جب ان کا فون ٹیپ کیا جا رہا ہو یا ان کا تعاقب کیا جا رہا ہو۔ پولیس نے اپنے اوپر لگائے گئے الزمات کو گیلانی کی خواب خیالی کہ کر مسترد کر دیا ہے۔ پروفیسر گیالانی نے یہ بھی جاننا چاہا ہے کہ پارلیمنٹ پر حملے کے معاملے میں قید کے دوران ان پر جیل کے اندر جو حملہ کیا گیا تھا پولیس نے ابھی تک اس کی تفتیش کیوں نہیں کی ہے۔ انہیں پارلیمنٹ پر حملے کے معاملے میں ہائی کورٹ نے با عزت بری کر دیا تھا۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس معاملے میں ایک طرف اگر گیلانی اور ان کی وکیل اس حملے کے لئے پولیس پر الزام عائد کر رہے ہیں تو دوسری جانب پولیس مسٹر گیلانی کو اب بھی پارلمنٹ کا ایک ملزم تصور کر رہی ہے اور اسی کے نقطہ نظر سے اس حملے کے لئے کھبی کسی شدت پسند تنظیم کو تو کبھی کسی مذہبی گروپ کے ملوث ہونے کی بات کرتی رہی ہے۔ مسٹر گیلانی نے اپنے بیان میں حملہ آور کا حلیہ پولیس کو دیا ہے لیکن بظاہر اس معاملے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے اور نندیتا ہکسر کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی پیش رفت ہونے کا امکان بھی نہیں ہے۔ پارلمنٹ پر حملے کے معاملے میں پروفیسر گیلانی کو بری کئے جانے کے خلاف پولیس نے سپریم کورٹ میں اپیل کر رکھی ہے اور معاملے کی سماعت جاری ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||