گيلانی کیس، کوئی پیشرفت نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلی یونیورسٹی کے پروفیسر عبدالرحمٰن گيلانی پر قاتلانہ حملے کے معاملے کی تفتیش پولیس کی خصوصی برانچ کر رہی ہے۔ لیکن ابھی تک حملہ آوروں کے بارے میں کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ پروفیسر گيلانی کو منگل کی رات جنوبی دلی میں ان کی وکیل نندتا ہکسر کے گھر کے باہر کسی نامعلوم حملہ آور نے گولی مار کر زخمی کر دیا تھا۔ انہیں تین گولیاں لگي ہیں۔ وکیل نندتا ہکسر کا کہنا ہے کہ پروفیسر گیلانی ان سے ملنے آ رہے تھے اور یہ بات یا توگیلانی کو معلوم تھی یا انہیں۔ اس لیے اس بات کی تفتیش کی جانی چاہیے کہ حملہ آور کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی کہ پرفیسر گیلانی کس سے ملنے کہاں جا رہے تھے۔ بدھ کے روز مسٹر گیلانی کی حمایت میں دانشوروں، طلباء اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ مظاہرین یہ الزام لگا رہے تھے کہ پروفیسر گیلانی پر حملے میں پولیس کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ پولیس نے اس الزام کو بے بنیاد کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔ مسٹر گیلانی تین برس قبل ہندوستانی پارلیمان پر حملے کے معاملے میں ملزم تھے۔ لیکن ہائی کورٹ نے انہیں باعزت بری کر دیا تھا۔ دلی پولیس نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کر رکھی ہے۔ پروفیسر گیلانی منگل کے حملے میں بری طرح زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے رشتے داروں نے بتایا کہ جمعرات کو ان کی حالت پہلے سے بہتر ہے اور انہوں نے کچھ بات چیت بھی کی ہے۔ پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ اگر ان کی حالت مزید بہتر ہوئی تو پولیس ان کا بیان ریکارڈ کرنے کی کوشش کرے گی۔ جائے وقوعہ کے قریبی رہائشیوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے گولیاں چلنے کی آوازیں سنی تھیں اور بظاہر یہ گولیاں کسی خود کار بندوق سے چلائی گئی تھیں۔ پولیس کو موقع واردات سے پانچ خالی کاتوس ملے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||