BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پروفیسر گیلانی خطرے سے باہر

گیلانی
پروفیسرگیلانی پر حملہ منگل کے روز ہوا تھا
ہندوستانی سپریم کورٹ نے دلی کے پولیس کمشنر کو حکم دیا ہے کہ پروفیسرگیلانی پر قاتلانہ حملے کی تفتیش کی تفصیلی رپورٹ وہ ایک ہفتے کے اندر عدالت میں پیش کریں۔

عدالت عظمیٰ کی ایک بینچ نے پارلیمنٹ پر حملے کے مقدمے میں پولیس کی اپیل کی سماعت کرتے ہوئے پروفیسر گیلانی پر قاتلانہ حملے کے واقعے کو انتہائی تکلیف دہ قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ پروفیسر گیلانی نے تقریباً ایک برس قبل بیان حلفی داخل کی تھی جس میں انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ پولیس انہیں فرضی تصادم میں ہلاک کر سکتی ہے۔

پروفیسر گیلانی کے وکیل اور معروف ماہر قانون رام جیٹھ ملانی نے عدالت میں کہا ہے کہ جو اندیشے گیلانی نے ظاہر کیے تھے بظاہر وہ صحیح ثابت ہورہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس حملے کی تحقیقات سی بی آئی سے کرائی جائے ۔

رام جیٹھ ملانی نے کہا کہ جس وقت پروفیسر گیلانی کل رات ہسپتال کے بستر بیہوشی کی حالات میں پڑے تھے اس وقت دلی پولیس نے انکی اہلیہ تک کو ان سے ملنے نہیں دیا۔

مسٹر جیٹھ ملانی نے عدالت کو بتایا کہ پروفیسر گیلانی کی آنتوں میں دس مقامات پر زخم آئے ہیں۔ لیکن ڈاکٹروں نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ انہیں بچانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

پولیس کے وکیل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اس معاملے کی گہرائی سے جانچ کی جائے گی۔

سید عبدالرحمن گیلانی کو تین برس قبل ہندوستان پارلیمنٹ پر ہوئے حملے میں ایک ذیلی عدالت نے دیگر ملزموں کے ساتھ سزائی موت سنائی تھی۔ لیکن دلی ہائی کورٹ نے انہیں باعزت بری کردیا تھا۔

پروفیسر گیلانی دِلی یونیورسٹی کے ذاکر حسین کالج میں عربی اور اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر ہیں۔ پارلیمنٹ کے واقعے میں بری ہوجانے کے بعد بھی پروفیسر گیلانی کی زندگی معمول پر نہیں آسکی۔

جیل میں بھی ان پر ایک بار بلیڈ سے حملہ کیا گیا تھا۔ چند ہفتے قبل جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں جب وہ اپنے تجربات بیان کرنے کے لیے بلائے گیے تھے تو وہاں بھی آر ایس ایس حامی طلباء نے بھی ان پر حملہ کیا تھا۔

کل رات جنوبی دلی میں جب ان پر گولیاں ماری گئیں اس وقت وہ اپنے وکیل سے بعض قانونی پہلوؤں پر صلاح و مشورے کے بعد اپنی کار کی طرف جارہے تھے۔

انہیں تین گولیاں لگی ہیں۔صبح میں انہیں ہوش آیا تھا اور انکی حالات میں معمولی بہتری آئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد