عدالت نظرِثانی کرے: پولیس اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلی پولیس نے عدالت عظمی سے درخواست کی ہے کہ وہ ہندوستان کی پارلیمنٹ پر حملے کے معاملے میں اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرے۔ درخواست میں دلی یونیرسٹی کے پروفیسر سید عبدالرحمن گیلانی کو بری کئے جانے، شوکت حسین گرو کو صرف دس سال کی سزا سنائے جانے اور انکی بیوی افشاں کو بری کئے جانے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے اور سب کے لئے موت کی سزا کی درخواست کی گئی ہے- پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس چالیس ایسي دلیلیں موجود ہیں جن کی بنیاد پر اس نے نظر ثا نی کی یہ درخواست داخل کی ہے۔ گزشتہ مہینے سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں پارلیمنٹ پر حملے کے جرم میں محمد افضل کی موت کی سزا برقرار رکھتے ہوئے انکے رشتے دار شوکت حسین کی موت کی سزا کوکم کرتے ہوئے 10 سال کی قید میں تبدیل کر دیا تھا۔ جبکہ شوکت حسین کی بیوی افشاں گرو کو با عزت بری کر دیا تھا۔ ساتھ ہی عدالت عظمی نے پروفیسر گیلانی کو بھی اس معاملے میں بری کر دیا تھا۔ ان افراد پر الزام تھا کہ وہ اس حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے اور ان کو مملکت کے خلاف جنگ چھیڑنے اور قتل کی سازش کا مجرم پایا گیا تھا۔ عدالت عظمی نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ مسٹر گیلانی پر شک کیا جاسکتا ہے لیکن ان کے خلا ف پختہ ثبوت نا ہونے کے سبب انہیں سزا نہیں دی جا سکی ہے۔ اس سے قبل ایک ذیلی عدالت نے مسٹر گیلانی ، شوکت حسین اور محمد افضل کو موت کی سزا سنائی تھی جبکہ افشاں گرو کے لئے پانچ سال کی قید مقرر کی گئی تھی۔ لیکن بعد میں دلی ہائی کوٹ نے مسٹر گیلانی اور افشاں گرو کو با عزت بری کر دیا تھا لیکن محمد افضل اور شوکت حسین کی سزا برقرار رکھی تھی۔ دسمبر سن دو ہزار ایک میں ہندوستان کی پارلیمان پر پانچ حملہ آوروں نے حملہ کیا تھا - اس واقعے میں چار افراد مارے گئے تھے- پانچوں حملہ آوروں کو پولیس نے پارلیمنٹ کے احاطے میں اصل عمارت سے باہر ہی ماردیا تھا- |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||