پارلیمان میں سکیورٹی الرٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نئی دہلی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بھارتی پارلیمان کو سکیورٹی الرٹ کی وجہ سے خالی کرایا گیا ہے۔ خبررساں ادارے رائٹرز کو ایک رکن پارلیمان نے بتایا: ’اس طرح کی اطلاعات ہیں کہ سکیورٹی کا ایک خطرہ ہے۔‘ بھارتی ٹیلی ویژن کی رپورٹوں کے مطابق وزیراعظم منموہن سنگھ کو وہاں سے محفوظ جگہ لے جایا گیا ہے اور لوگوں کو پارلیمان کی عمارت سے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔ سن دو ہزار ایک میں پارلیمان پر ہونے والے ایک شدت پسند حملے کے بعد سے وہاں سکیورٹی کے انتظامات سخت کردیے گئے ہیں۔ اس حملے میں پانچ شدت پسندوں سمیت چودہ افراد ہلاک ہوئےتھے۔ ٹیلی ویژن کی رپورٹوں میں دیکھا گیا کہ سینیئر سیاست دان اپنی کاروں سے پارلیمان کے احاطے سے نکل رہے تھے اور اطراف میں سائرن کی آوازیں سنی جاسکتی تھیں۔ پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں کارروائی معطل کردی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بم سونگھنے والے کتے اور سکیورٹی کے اہلکار پارلیمان کی عمارت کی تلاشی لے رہے ہیں۔ ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے سپیکر سومناتھ چٹرجی نے صحافیوں کو بتایا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ دسمبر دوہزار ایک میں پانچ مسلح افراد نے پارلیمان پر حملہ کرکے نو لوگوں کو ہلاک کردیا تھا۔ پانچوں مسلح افراد بھی مارے گئےتھے۔ بھارت نے شدت پسندوں کی حمایت کے لیے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا لیکن حکومتِ پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا۔ اس حملے کے بعد سرحد پر فوجیں تعینات کردی گئی تھیں۔ | اسی بارے میں بھارتی پارلیمان پر حملہ، گیلانی بری04 August, 2005 | انڈیا عدالت نظرِثانی کرے: پولیس اپیل06 September, 2005 | انڈیا موت کی سزا: پولیس درخواست05 September, 2005 | انڈیا پاکستانی کو سزائے موت، دیگر کو قید 31 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||