BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 October, 2005, 11:17 GMT 16:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی کو سزائے موت، دیگر کو قید

اشفاق عارف
اشفاق عارف کو حملے کے چار روز بعد دلی سےگرفتار کیا گیا تھا
ہندوستان کی ایک ذیلی عدالت نے دلی کے لال قلعہ میں واقع فوجی بیرکوں پر حملے کے جرم میں مبینہ پاکستانی شہری اشفاق عارف کو موت کی سزا سنائی ہے۔

اس معاملے میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے نذير احمد قاصد اور ان کے بیٹے فاروق کو عمر قید کی سز ا کا حکم دیا گیا ہے جبکہ اشفاق کی ہندوستانی بیوی ریحانہ سمیت چار ديگر ملزمان کو سات، سات برس کی سزا ئے قید سنائی گئی ہے۔ اس مقدمے میں عدالت نے چار ملزموں کو با عزت بری کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

گزشتہ پیر کو دلی کی ایک خصوصی عدالت نے ساتوں ملزموں کو قصوروار قرار دیا تھا۔ سزا پانے والے سبھی ملزموں نے قلعہ پر حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کو چیلنچ کریں گے۔

لال قلعہ پر 22 دسمبر سنہ 2000 کو حملہ کیا گیا تھا اور اس حملے کی ذمےداری شدت پسند تنظیم لشکرِطیبہ نے قبول کی تھی۔ اس حملے میں تین افراد بھی مارے گئے تھے۔

دلی پولیس نے اشفاق اور اسکی بیوی ریجانہ کو حملے کے چار روز بعد دلی میں گرفتار کیا تھا۔ پولیس اس معاملے کے تین دیگر ملزموں کو تصادموں میں گولی مار کر ہلاک کر چکی ہے۔ تفتیشی اداروں کے مطابق آٹھ ملزم فرار ہیں۔

دلی کے تاریخی لال قلعہ کا ایک حصہ فوجی بیرک کے طور پر استعمال ہوتا تھا اور اس کے احاطے میں ملک کے خفیہ اداروں کا تفتیشی مرکز بھی واقع تھا جہاں اہم معاملات کے ملزمان سے پوچھ گچھ کی جاتی تھی اور انہیں وہاں نظر بند رکھا جاتا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد