پاکستانی کو سزائے موت، دیگر کو قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ایک ذیلی عدالت نے دلی کے لال قلعہ میں واقع فوجی بیرکوں پر حملے کے جرم میں مبینہ پاکستانی شہری اشفاق عارف کو موت کی سزا سنائی ہے۔ اس معاملے میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے نذير احمد قاصد اور ان کے بیٹے فاروق کو عمر قید کی سز ا کا حکم دیا گیا ہے جبکہ اشفاق کی ہندوستانی بیوی ریحانہ سمیت چار ديگر ملزمان کو سات، سات برس کی سزا ئے قید سنائی گئی ہے۔ اس مقدمے میں عدالت نے چار ملزموں کو با عزت بری کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ گزشتہ پیر کو دلی کی ایک خصوصی عدالت نے ساتوں ملزموں کو قصوروار قرار دیا تھا۔ سزا پانے والے سبھی ملزموں نے قلعہ پر حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کو چیلنچ کریں گے۔ لال قلعہ پر 22 دسمبر سنہ 2000 کو حملہ کیا گیا تھا اور اس حملے کی ذمےداری شدت پسند تنظیم لشکرِطیبہ نے قبول کی تھی۔ اس حملے میں تین افراد بھی مارے گئے تھے۔ دلی پولیس نے اشفاق اور اسکی بیوی ریجانہ کو حملے کے چار روز بعد دلی میں گرفتار کیا تھا۔ پولیس اس معاملے کے تین دیگر ملزموں کو تصادموں میں گولی مار کر ہلاک کر چکی ہے۔ تفتیشی اداروں کے مطابق آٹھ ملزم فرار ہیں۔ دلی کے تاریخی لال قلعہ کا ایک حصہ فوجی بیرک کے طور پر استعمال ہوتا تھا اور اس کے احاطے میں ملک کے خفیہ اداروں کا تفتیشی مرکز بھی واقع تھا جہاں اہم معاملات کے ملزمان سے پوچھ گچھ کی جاتی تھی اور انہیں وہاں نظر بند رکھا جاتا تھا۔ | اسی بارے میں لال قلعہ کیس: 7 افرادپرجرم ثابت24 October, 2005 | انڈیا فوج نے لال قلعہ خالی کر دیا22 December, 2003 | آس پاس لال قلعہ محکمہ آثار قدیمہ کے حوالے22 December, 2003 | آس پاس بھارتی پارلیمان پر حملہ، گیلانی بری04 August, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||