BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 December, 2003, 19:12 GMT 00:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لال قلعہ محکمہ آثار قدیمہ کے حوالے

لال قلعے
دریائے جمنا کے نزدیک واقع لال قلعہ مغلیہ سلطنت کے سنہری دور کی یادگار ہے

ہندوستان کے دارالحکومت دلی میں تاریخی لال قلعے کو پیر کے روز فوج نے پوری طرح خالی کر دیا۔

اب یہ قلعہ مکمل طور پر آثار قدیمہ کے اختیار میں ہوگا۔

دریائے جمنا کے نزدیک واقع لال قلعہ مغلیہ سلطنت کے سنہری دور کی یادگار ہے۔

اسے سترویں صدی میں مغل بادشاہ شاہجہان نے تعمیر کرایا تھا۔ اسی قلعے کے دیوان خاص میں تخت طاؤس واقع ہےجہاں بیٹھ کر مغل بادشاہ ہندوستان کے طول و عرض پر حکومت کرتے تھے۔

یہ سلسلہ سن اٹھارہ سو ستاون تک جاری رہا جب غدر کے دوران انگریز فوج نے دلی پر اپنے قبضے کے بعد اس وقت کے مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو قلعے سح نکل جانے کا حکم دیا تھا اور انہیں شہر کے جنوب میں واقع قطب مینار کے احاطے میں منتقل کر دیا تھا۔

سن اٹھارہ سو ستاون سے لے کر سن انیس سو سینتالیس تک لگل قلعہ برطانوی فوج کے قبضے میں رہا اور اس میں انہوں نے اکثر ہندوستانی قیدیوں کو قید رکھا۔

آزادی کے بعد لال قلعہ کے بیشتر حصے ہندوستانی فوج کے قبضے میں آگئے اور یہاں سنگین نوعیت کے مجرموں کو رکھنے کے سیل بھی بنائے گئے۔

پیر کو ایک سادہ تقریب میں وزیر دفاع جارج فرنینڈس نے علامت کے طور پر قلعے کی چابی سیاحت کے وزیر جگموہن کو پیش کی۔

حکومت اب یہ کوشش کر رہی ہے کہ اس قلعے کو اقوام متحدہ کے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کروایا جائے۔

ہر سال یوم آزادی کے موقع پر وزیر اعظم اسی قلعے کی فصیل سے خطاب کرتے ہیں۔

قلعے کے دو دروازے ہیں جن میں سے ایک دلی جبکہ دوسرا لاہوری دروازہ کہلاتا ہے۔

جب یہ قلعہ تعمیر کیا گیا تھا اس وقت دریائے جمنا اس کی عقب کی دیواروں کو چھوکر گزرتا تھا لیکن اب وہ کچھ فاصصلے پر بہتا ہے۔

محکمہ آثار قدیمہ نے آگرہ کے قلعے کو بھی فوج سے خالی کرانے کی درخواست کی ہے۔

یہ قلعہ مغل بادشاہ اکبر نے سولہویں صدی میں تعمیر کرایا تھا اور یہ تاج محل سے کچھ دور ہی واقع ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد