BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 December, 2005, 19:43 GMT 00:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت میں انسانی حقوق پر تشویش
ماؤ باغی
انسانی حقوق کی تنظیموں کا احتجاج
بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے حکام نے انسانی حقوق کی تنظیموں کے اس الزام کی تردید کی ہے کہ ریاستی حکومت لوگوں کے ’غائب ہونے کے واقعات‘ میں ملوث ہے۔

دلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انسانی حقوق کی تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ چھتیس گڑھ کے ضلع دنتے والا میں پچھلے چند ماہ کے دوران چھیانوے افراد ’غائب‘ ہو چکے ہیں۔

ان تنظیموں نے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے اپنی حالیہ کوشش کے دوران بہت سی ایسی ہلاکتوں کا سراغ لگایا ہے جن کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

اس حقائق شائع کرنے والے مشن میں شامل تنظیموں میں پیپلز یونین آف سول لبرٹیز، پیپلز یونین فار ڈیموکریٹک لبرٹیز، ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف ڈیموکریٹک رائٹس اور انڈیا ایسوسی ایشن آف پیپلز لایئرز قابل ذکر ہیں۔

چھتیس گڑھ کی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدہ دار ڈی ایس رے نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ الزامات بے بنیاد اور حقائق سے عاری ہیں۔

ان تنظیموں کا الزام ہے کہ حکومت اپنی ’سلوا جدوم‘ نامی امن تحریک کی کوشش کی آڑ میں یہ سب کچھ کر رہی ہے جس کے نتیجے میں لوگ غائب ہو رہے ہیں۔

تنظیم کے ایک رکن ہریش شاوان نے الزام لگایا کہ حکومت ماؤ نواز باغیوں کو علاقے سے نکالنے کے لیے سلوا جدوم کا استعمال کر رہی ہے۔ اس عمل میں عام شہریوں کو مارا اور ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔

ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم ڈی ایس رے نے کہا کہ ’سلوا جدوم ایک انقلابی عوامی تحریک ہے جسے قبائلی لوگوں نے منظم کیا ہے تاکہ ماؤ نواز باغیوں کے تشدد کا مقابلہ کیا جا سکے‘۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا الزام ہے کہ اس تحریک کے کارکنوں کو حکومت اسلحہ فراہم کر رہی ہے اور انہیں مشتبہ لوگوں کو مارنے اور گرفتار کرنے کے لیے فوج کی مدد حاصل ہے۔

سوال کی رشوت
ٹی وی نے اراکین اسمبلی کا بھانڈا پھوڑ دیا
66بہار کی گڑیا
یونیسیف کی دعوت پر گڑیا لندن جارہی ہے
66دلی ڈائری
اڈوانی کی مشکل اور امیتابھ کا سوپ اوپرا
66بہار کی رابڑی دیوی
ہندو انتہا پسند سیاست دانوں کی رول ماڈل؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد