بھارت میں انسانی حقوق پر تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے حکام نے انسانی حقوق کی تنظیموں کے اس الزام کی تردید کی ہے کہ ریاستی حکومت لوگوں کے ’غائب ہونے کے واقعات‘ میں ملوث ہے۔ دلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انسانی حقوق کی تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ چھتیس گڑھ کے ضلع دنتے والا میں پچھلے چند ماہ کے دوران چھیانوے افراد ’غائب‘ ہو چکے ہیں۔ ان تنظیموں نے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے اپنی حالیہ کوشش کے دوران بہت سی ایسی ہلاکتوں کا سراغ لگایا ہے جن کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اس حقائق شائع کرنے والے مشن میں شامل تنظیموں میں پیپلز یونین آف سول لبرٹیز، پیپلز یونین فار ڈیموکریٹک لبرٹیز، ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف ڈیموکریٹک رائٹس اور انڈیا ایسوسی ایشن آف پیپلز لایئرز قابل ذکر ہیں۔ چھتیس گڑھ کی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدہ دار ڈی ایس رے نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ الزامات بے بنیاد اور حقائق سے عاری ہیں۔ ان تنظیموں کا الزام ہے کہ حکومت اپنی ’سلوا جدوم‘ نامی امن تحریک کی کوشش کی آڑ میں یہ سب کچھ کر رہی ہے جس کے نتیجے میں لوگ غائب ہو رہے ہیں۔ تنظیم کے ایک رکن ہریش شاوان نے الزام لگایا کہ حکومت ماؤ نواز باغیوں کو علاقے سے نکالنے کے لیے سلوا جدوم کا استعمال کر رہی ہے۔ اس عمل میں عام شہریوں کو مارا اور ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم ڈی ایس رے نے کہا کہ ’سلوا جدوم ایک انقلابی عوامی تحریک ہے جسے قبائلی لوگوں نے منظم کیا ہے تاکہ ماؤ نواز باغیوں کے تشدد کا مقابلہ کیا جا سکے‘۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا الزام ہے کہ اس تحریک کے کارکنوں کو حکومت اسلحہ فراہم کر رہی ہے اور انہیں مشتبہ لوگوں کو مارنے اور گرفتار کرنے کے لیے فوج کی مدد حاصل ہے۔ |
اسی بارے میں بہار: ماؤ باغیوں نے ساتھی چھڑا لیے 13 November, 2005 | انڈیا کانگریسی رہنما، 9 دیگر ہلاک15 August, 2005 | انڈیا ماؤنواز باغی: بہار پولیس کا امتحان27 June, 2005 | انڈیا ماؤنواز قیدیوں کے لئے عالمی مدد 26 March, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||