BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 December, 2005, 11:51 GMT 16:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہار کی گڑیا لندن جارہی ہے

جسے غربت نہ روک سکی
گڑیا لندن جا رہی ہے۔ یہ گڑیا جاپانی تو نہیں مگر یہ لکھنا پڑھنا جانتی ہے اور کراٹے کی مشاق بھی ہے۔ چودہ دسمبرکو اسے لندن میں یونیسیف کی سالانہ رپورٹ کے اجراء کی تقریب میں شرکت کرنی ہے۔

اس گڑیا کا پورا نام گڑیا خاتون ہے۔ وہ بہار کے گیا ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں پرساواں میں رہتی ہے۔گڑیا سیکنڈری سکول میں ساتویں درجہ میں زیر تعلیم ہے۔

گڑیا دو سال پہلے گاؤں کے ایک مدرسے میں پڑھتی تھی۔ اس کے والد ایک حادثے میں معذور ہوگئے۔ غربت نے اسے تعلیم منقطع کرنے پر مجبور کر دیا لیکن گڑیا کی تعلیم سے یہ دوری بہت کم دنوں کی تھی۔

گڑیا نے بتایا کہ اسے پڑھنا بہت اچھا لگتا تھا۔ حالانکہ اس کی والدہ ریحانہ خاتون اس کے لیے راضی نہ تھیں۔ ریحانہ کی دلیل تھی کہ اگر وہ پڑھنے میں لگ جائے گی تو گھر کا خرچ کیسے چلے گا۔ گڑیا چھ بھائی بہنوں میں سب سے بڑی ہے۔گھر کا خرچ چلانے کے لیے دونوں ماں بیٹی دوسروں کے گھریلو کام کیا کرتی تھیں۔

گڑیا نے مدرسے کی تعلیم چھوڑنے کے بعد بہار ایجوکیشن پروجیکٹ کے زیر اہتمام چلنے والے غیر رسمی تعلیمی پروگرام کا کورس پورا کیا۔ اس کے بعد اسے اسکول میں داخلہ ملا۔

گڑیا کو کراٹے کا شوق
گڑیا کو کراٹے کا شوق

گڑیا کی اسی کامیابی سے متاثر ہوکر یونیسیف نے اس کا انتخاب لندن میں ہونے والی اپنی تقریب میں ہندوستان کی نمائندگی کے لیے کیا ہے۔ بہار ایجوکیشن پروجکٹ کے ڈائرکٹر انجنی کمار سنگھ کہتے ہیں کہ بہار کے لیے یہ اعزاز بے حد فخر کی بات ہے۔

بہار کے لیے یہ اعزاز اس لیے بھی قابل مبارکباد ہے کہ گزشتہ سال ریاست کے سیتا مڑھی ضلع کی للیتا کی تصویر یونیسیف کی رپورٹ کے سرورق پر شائع ہوئی تھی۔للیتا نہایت پسماندہ ’موسہر‘ خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔

یونیسیف کے انوپم شریواستو نے بتایا کہ اس تقریب کے لیے انتخاب کے وقت اس بات کا لحاظ رکھا جاتا ہے کہ کون کتنے مشکل حالات میں کامیاب ہوا ہے۔ بہار میں عمومی طور پر غریب بچوں کو تعلیم کے لیے جتنی مشقت کرنی پڑتی ہے وہ ملک کے دوسرے علاقوں سے کافی زیادہ ہے۔

گڑیا کے معاملے میں بھی یہی بات ملحوظ خاطر رکھی گئی تھی۔ ایک تو وہ غریب مسلم خاندان سے تھی، دوسری بات یہ کہ اس کے گاؤں سے لڑکیاں سکول نہیں جا تی تھیں۔

گڑیا کو لندن میں ایک تقریر بھی کرنی ہے مگر وہ بولے گی کیا؟ گڑیا کہتی کہ وہ بتائےگی کہ اگر آدمی چاہ لے تو کوئی کام مشکل نہیں۔

ایڈیٹر کا نوٹ: گڑیا جب لندن پہنچی تو تیرہ دسمبر 2005 کو بش ہاؤس میں واقع بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے دفتر بھی آئی۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنا نام گڑیا نہیں ’گوڑیا‘ لکھتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد