بھارتی پڑھنے میں نمبر ون | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک نئے سروے کے مطابق بھارت میں دنیا میں سب سے زیادہ کتابی کیڑے موجود ہیں جو کہ ہفتے میں اوسطً 10.7 گھنٹے کتابیں پڑھتے ہیں۔ یہ سروے این او پی ورلڈ کلچر سکور انڈیکس نے دسمبر 2004 سے لے کر جنوری 2005 تک 30 ملکوں میں 30,000 افراد کا ایک سیمپل لے کر کیا ہے۔ سروے کے مطابق چین اور فلپائن کے لوگ کتابیں، اخبارات اور جرائد پڑھنے میں دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ برطانوی اور امریکی باشندوں نے بھارتیوں کی نسبت آدھے پوائنٹ سکور کیے۔ جبکہ جاپانی اور کوریائی باشندے تو بالترتیب 4.1 اور 3.1 گھنٹے صرف کر کے ان سے بھی نیچے رہے۔ لیکن زیادہ کتابیں پڑھنے کا مطلب کم ٹی وی دیکھنا اور ریڈیو سننا ہے۔ بھارتی ان دونوں شعبوں میں نیچے سے چوتھے نمبر پر رہے۔ تھائی لینڈ کے باشندے ٹی وی دیکھنے میں اول آئے جبکہ برازیل والے ریڈیو سننے میں۔ کراس ورلڈ بک سٹورز کے چیف ایگزیکیوٹیو آر سری رام، جس کے بھارت میں 26 سٹورز ہیں، کہتے ہیں کہ بھارتی بڑے مہم جو ہیں اور پڑھنا ان کے لیے ایک بنیادی چیز ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بھارتی پڑھنے پر بہت زور دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بیرون ملک تعلیم اور یونیورسٹیوں میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔ تاہم بھارت کے معروف صحافی اور مصنف ترن تیج پال کہتے ہیں کہ ’(کتابیں پڑھنے) کا زیادہ تعلق چیزوں کو حاصل کرنے کی توقعات، دوسروں سے آگے نکلنے کی دوڑ، سکولوں اور کالجوں میں داخلہ وغیرہ لینے سے ہے۔ اس میں پڑھائی کم ہے اور رٹا زیادہ‘۔ وہ کہتے ہیں کہ بھارت میں ایک اچھی کتاب کی صرف چند ہزار کاپیاں فروخت ہوتی ہیں جبکہ امریکہ اور برطانیہ میں اس کی دسیوں ہزاروں کاپیاں فروخت ہوتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||