ریحانہ بستی والا ممبئی |  |
مارچ 1993 میں ممبئی میں ہوئے بم دھماکوں پر مبنی فلم ’بلیک فرائیڈے‘ نمائش سے پہلے ہی تنازعہ کا شکار ہو گئی ہے کیونکہ بم دھماکے کے ملزمان نے فلم پر پابندی عائد کرنے کے لیے مبمئی ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا عہد کر لیا ہے اور ان ملزمان کو ٹاڈا کورٹ میں کامیابی حاصل ہوگئی ہے۔ ان ملزمان نے فلم کے اشتہار پر لکھے جملے ’بم دھماکوں کی حقیقی کہانی‘ کو ہذف کرنے کے لیے اپیل دائر کی تھی۔ ٹاڈا میں ملزمان کے وکلاء مجید میمن، سبھاش کانسے اور فرحانہ شاہ کی دائر کی گئی اپیل پر دو گھنٹے تک جرح ہوئی۔ مجید ممین کا کہنا تھا کہ یہ فلم بم دھماکوں کی حقیقی کہانی کس طرح ہو سکتی ہے جبکہ ابھی عدالت کا فیصلہ آنا باقی ہے اور ایسے وقت میں جبکہ کسی بھی وقت عدالت فیصلہ دے سکتی ہے اس طرح کی فلم غلط انداز میں اثر انداز ہوگی۔ یہ فلم ’مڈ ڈے ملٹی میڈیا لمیٹڈ‘نے بنائی ہے اور اسی اخبار کے صحافی سید حسین زیدی کی کتاب ’بلیک فرائیڈے‘ پر مبنی ہے۔ حسین زیدی کی یہ کتاب دو سال قبل شائع ہو چکی ہے۔ مِڈ ڈے کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل میہر دیسائی نے جرح کے بعد تسلیم کیا کہ وہ فلم کے اشتہار سے ’حقیقی کہانی‘ کے الفاظ نکال دیں گے۔ فلم میں کے کے حسین نے اس وقت کے ڈپٹی پولیس کمیشنر راکیش ماریا کا کردار نبھایا ہے۔ داؤد ابراہیم کا کردار وجے موریہ کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ اس فلم میں عرفان خان اور وجے راج بھی ہیں۔ ممبئی میں سلسلہ وار دھماکے 12 مارچ 1993 میں کیے گئے جن میں 657 افراد ہلاک اور 713 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعہ میں 27 کروڑ کی املاک بھی تباہ ہوئی تھی۔ مقدمہ 7 جون 1995 سے شروع ہوا۔ 122 ملزمان کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے۔ اس دوران 12 ملزمان یا تو پولیس مقابلے میں یا قدرتی موت سے مر چکے ہیں اور یہ سب کچھ اس فلم میں ڈرامائی انداز میں پیش کیا گيا ہے۔ فلم کے ہدایتکار انوراگ کشیپ ہیں۔ فلم 28 جنوری کو نمائش کے لیے پیش ہوگی۔ |