ریحانہ بستی والا ممبئی |  |
 |  پروین بابی کی آخری رسومات کے موقع پر کویی فلمی ستارہ نظر نہ آیا |
مشہور بالی وڈ اداکارہ پروین بابی کو سپردِ خاک کیے جاتے وقت ان کے گرد بالی وڈ کے جگمگاتے ستارے نہیں بلکہ ان کے اپنے رشتہ داروں کے علاوہ ان کے سینکڑوں پرستاروں نے شرکت کی۔ پروین بابی نے بوقتِ رخصت یہ بات ثابت کر دی کہ بالی وڈ میں صرف چڑھتے سورج کی ہی پوجا کی جاتی ہے۔ پولیس کو اتوار کے روز خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پہلے احمدآباد سے اشفاق بابی نے آ کر دعویٰ کیا کہ وہ پروین بابی کے رشتہ دار ہیں۔ ابھی یہ معاملہ طے بھی نہیں ہوا تھا کہ ملبار ہل علاقے سے تین عیسائی پادری پہنچ گئے۔ انہوں نے پولیس کو رجسٹر دکھاتے ہوئے کہا کہ پروین بابی نے 1997 میں عیسائی مذہب قبول کر لیا تھا اور ان کی خواہش تھی کہ ان کی آخری رسومات عیسائی مذہب کے مطابق انجام دی جائیں۔ لیکن پولیس نے اپنا آخری فیصلہ بیگم فرحت سلطانہ بابی کے حق میں دیا جو ان کی بھتیجی ہیں۔  |  پروین بابی |
اس طرح شام پانچ بجے پروین بابی کی لاش ہسپتال سے قبرستان لائی گئی۔ اس وقت صرف ان کے رشتہ دار وہاں موجود تھے۔ قبرستان میں صرف پروین بابی کو چاہنے والے ان کے مداح اور چند میڈیا کے لوگ موجود تھے۔ فلمی دنیا سے سب سے پہلے وہاں مہیش بھٹ پہنچے اور جنازے کو کندھا دیا۔ آخری لمحوں میں مہیش بھٹ، اشوک پنڈت، کبیر بیدی اور رنجیت وہاں موجود تھے۔ کبیر بیدی نے بتایا کہ پروین ایک انتہائی خوددار لڑکی تھی اور آخری وقت تک یہی رویہ اپنائے رکھا۔ رنجیدہ مہیش بھٹ نے کہا کہ انہیں اپنی دوست کی اس طرح بے بسی اور نا خوشگوار حالات میں ہوئی موت کا تاحیات افسوس رہےگا۔ اس موقع پر رنجیت اپنے آنسوؤں کو نہیں روک سکے۔ لیکن ان چند ستاروں کے علاوہ پروین کو الوداع کہنے کے لیے بالی وڈ کی جگمگاتی دنیا سے کوئی اور نہیں آیا۔ بالی وڈ کا یہ ایک تاریک اور انتہائی شرمناک پہلو ہے۔ |