امریش پوری کا رول ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہتر سالہ امریش پوری کافی دنوں سے بیمار تھےاور گزشتہ کئی روز سے ممبئی کے ہندوجہ اسپتال میں زیر علاج تھے۔ بدھ کی صبح دماغ کی شریان پھٹ جانے کے سبب ان کا انتقال ہوگیا۔ ہندی فلموں میں سب سے خوفناک دکھائی دینے والے ولن امریش پوری جون 1932 میں پیدا ہوئے تھے۔ انہیں اداکاری میں ابتدا ہی سے دلچسپی تھی۔ 1954 میں انہوں نے فلموں میں ہیرو کی حیثیت سے شروعات کرنے کا ارادہ کیا۔ لیکن اس میں ناکامی کے سبب وہ تھیٹر سے منسلک ہو گۓ۔ تفریبا 40 برس کی عمر میں فلموں میں ان کی دوبارہ واپسی ولن کی حیثیت سے ہوئی۔ فلموں میں ان کی اداکاری کے جوہر ایسے رہے ہیں کہ بعض دفعہ وہ ہیرو سے بھی بازی لے جاتے تھے۔ فلمی ویلن کے کردار میں انہوں نے برسوں اپنی صلاحیتوں کہ لوہا منوایا ۔ فلموں میں ان کی اداکاری کا سفر ریشماں اور شیرا سے ہوا تھا لیکن ان کی اداکاری کو پہچان شیام بنیگل کی ’نشانت‘ اور’منتھن ‘ جیسی فلموں سے ملی تھی۔ اس کے بعد اس ہمہ جیت اداکار نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ امریش پوری شیکھر کپور کی فلم ’مسٹر انڈیا‘ میں اپنے کیریئر کے عروج پر پہنچےجس میں ’موگیمبو‘ کا کردار لوگوں کو بہت پسند آیا۔ عام طور پر لوگ ہیرو کی نقل کرتے ہیں۔ لیکن جس طرح " شعلے" میں گبر سنگھ کا رول بہت مشہور ہوا تھااسی طرح ’مسٹر انڈیا‘ میں ان کا ڈائیلاگ ’موگیمبو خوش ہوا‘ آج تک لوگ بھلا نہیں سکے ہیں ۔ اس کے بعد امریش پوری نے فلموں میں ایک سے بڑھ کے ایک کردار نبھائے اور ناظرین کا دل جیت لیا۔ ہیرو اور ہیروئنوں کی طرح ان کے بھی بہت سے ناظرین مداح بن گۓ۔ بالی ووڈ کے تقریبا سبھی بڑے ہدایتکاروں نے انہیں اپنی فلموں میں ولن کی جگہ دی۔ ہالی ووڈ کے مشہور ہدایتکار اسٹیون سپیلبرگ نے امریش پوری کی ان ہی اداکارانہ صلاحیتوں کے سبب اپنی فلم " انڈیانا جونز اینڈ دی ٹیمپل آف دی ڈوم میں سائن کیا۔ اس فلم میں انہوں نے بھولارام کا کردار نبھایا تھا جس کے لیے انہیں اپنا سر بھی منڈوانا پڑا تھا۔ یہ کردار بھی بہت مقبول ہوا۔ جس کے بعد وہ عام طور پر اپنے سر پر بال نہیں رکھتے۔ یہ بھی بالی ووڈ میں ان کی منفرد پہچان بن گئی تھی۔
ہدایت کار شیام بنیگل نے ان کی موت پرگہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شخصیت ایسی تھی کہ وہ کسی بھی کرداد میں بالکل فٹ ہوجاتے تھے۔ بالی ووڈ میں وہ جس طرح کے منفرد رول کرتے تھے انہیں پر کرنا اب مشکل ہوگا۔ مسٹر بینیگل کے بقول وہ ابھی تک ویلین کی فہرست میں سب سے ٹاپ پوزیشن پر تھے۔ کمرشل فلموں میں ان کی کامیابی کی شروعات ’ہم پانچ ‘ سے ہوئی تھی ۔ اس فلم میں انہوں نے مہا بھارت کے کردار دریودھن کا رول نبھایا تھا۔ بعد میں ودھاتا ، ہیرو اور لوہا جیسی ان کی کئی فلمیں سپرہٹ ہوئیں اور اس کے ساتھ ہی وہ ہندی فلموں کے سپر اسٹار ولن بن گئے۔ فلموں میں اپنی رعب دار اور منفرد آواز کے سبب ان کی بالکل الگ پہچان تھی۔ سبھاش گھئی کی آنے والی فلم ’ کسنا‘ میں بھی وہ اہم رول اداکر رہے تھے۔ امریش پوری نے مسٹر گھئی کی کئی فلموں میں کام کیا۔ ان کے انتقال پر مسٹر گھئی نے ایک بیان میں کہا ہے۔ ’امریش پوری کا ہمارے بیچ نہیں رہنا نہ صرف پوری فلم انڈسٹری کے لیے غم کا سبب ہے بلکہ ذاتی طور پر میرے لیے یہ ایک بہت بڑا حادثہ ہے۔ اس وقت جو خیال میرے دل میں ان کے لے آ رہا ہے وہ ایک اچھے انسان ، بہترین اداکار اور ایک بہت ہی پیارے دوست کا ہے۔ ہمارا رشتہ تقریبا 25 سال پرانا تھا اور یہ رشتہ ایک اداکار اور فلمساز کا نہیں بلکہ دوستی کا تھا۔‘ پچھلے دو سال سے وہ علیل تھے لیکن فلم " کسنہ " میں ان کی اداکاری دیکھنے کے لائق ہے۔ فلم کسنہ میں وہ بھیرو سنگھ ( کسنہ کے ماموں) کا رول ادا کر رہے ہیں۔‘ پردے پر امریش پوری کی شخصیت بدی اور گناہوں کے دیوتا کی سی تھی۔ خوفناک اور دہشت پھیلانے والے کرداروں کے سبب فلم میں ان کی آمد کا مطلب تخریب کاری تھا ۔ لیکن اپنی ذاتی زندگی میں وہ بہت ہی ملنسار اور منکسرالمزاج طبیعت کے آدمی تھے۔ فلمی دنیا میں انہوں نے اپنے انداز و ادا کے خصوصی نقش چھوڑے ہیں۔ بالی ووڈ میں امریش پوری کے انتقال سے جو خلاء پیدا ہوا ہے اسکی تکمیل اتنی جلدی ممکن نہیں۔ ’مسٹر انڈیا ، ودھاتا ، ہیرو ، ریشما لوہا، شیرا ، دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ حیسی یادگار فلموں میں لازواں کرداروں کے سبب انہیں ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||