فلموں کے تاریخی ذخائر خطرے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سربیا نہ تو کوئی بڑا ملک ہے اور نہ ہی امیر۔ تاہم اس کے پاس فیچر فلموں اور نیوز ریل کے اتنے بڑے اور تاریخی ذخائر موجود ہیں جو کسی خزانے سے کم نہیں۔ تاہم سالہا سال نظر انداز کیے جانے اور فنڈز کی کمی کے باعث یہ منفرد اور بیش قیمت تاریخی ذخائر ضائع ہوتے جارہے ہیں۔ بلغراد میں بارش سے متاثرہ ٹوٹی پھوٹی سڑک کے کنارے وہ دفتر واقع ہے جس میں نیوز ریل کے یہ ذخائر ہیں۔ اس عمارت کی بیسمنٹ میں پندرہ ملین میٹر لمبی ٹیپوں پر فلموں کی سو سالہ تاریخ موجود ہے۔ یہ ٹیپیں اس عمارت میں بری طرح ٹھنسی ہوئی ہیں۔ یہاں کی آب و ہوا بھی نم ہے جو ان ٹیپوں کو خراب کرسکتی ہے۔ ان ٹیپوں پر پہلی اور دوسری عالمی جنگ عظیم تک کی جھلکیاں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ 1960 کی نان الائنڈ تحریک اور لیبیا اور مصر تک کی تاریخ کے شواہد موجود ہیں۔ لیکن یہ بیش قیمت فلمیں بہت جلد ہمیشہ کےلیے ختم ہونے والی ہیں۔ سربیا کی حکومت کے پاس اس خزانے کو بچانے کے لیے فنڈز کی کمی ہے۔ سربیا کے ایک ماہر تاریخ نے عالمی برادری سے اس خزانے کو بچانے کے لیے مدد کی اپیل کی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک دنیا بھر سے بہت کم رد عمل سامنے آیا ہے۔ صرف یہی ایک عمارت نہیں ہے جہاں یہ ذخائر خطرے میں ہیں بلکہ ایک اور مقام پر تقریباً ایک لاکھ فیچر فلمیں موجود ہیں۔ یہ دنیا بھر میں فیچر فلموں کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے جو اسی طرح کے خطرات سے دوچار ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||