فلم کِسنا دیکھ کر کیا لگتا ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلم ہدایت کار سبھاش گھئی کی فلم ’ کِسنا‘ کافی انتظار کے بعد جمعہ کو ریلیز ہوئی ہے۔ فلم جہاں تکنیکی لحاظ سے مکمل ہے وہیں اسکے گيت اور موسیقی بھی تفریح طبع کا بہترین ذریعہ ہیں۔ لیکن اس فلم کو دیکھ کر لگتا ہے کہ سبھاش گھئی بھی اب دیگر فلموں سے مصالحہ ڈھونڈنے لگے ہیں۔ کِسنا اس وقت کی کہانی ہے جب غلام ہندوستان کی آزدی کا خواب پورا ہونے والا تھا۔ چالیس کی دہائی میں ہمالیہ میں ایک انگریز خاندان ہندوسانیوں کے نرغے میں پھنس جاتا ہے۔ ملک میں انگریزوں کے خلاف نفرت پھیلی ہوئی ہے۔ اسی دوران ایک ہندوستانی لڑکے’ کسنا‘ (وی ویک اوبرائے) اور ایک انگریز لڑکی کیتھرین (انٹینیو بریناتھ) کے درمیان انس ہو جاتا ہے۔ کِسنا کیتھرین کی ہر ممکن مدد کرتا ہے اور بالآخر اسے محفوظ دِلّی پہنچا دیتا ہے۔ انگریز لڑکی اسے اپنی زندگی میں آنے کی دعوت دیتی ہے۔ کِسنا ہندوستانی لڑکی لکشمی (ایشا شروانی ) سے شادی کرتا ہے۔ فلم رومانس، جذبات، پر مبنی ایک مکمل کہانی ہے۔ لیکن اسکا تانا بانا کمزور لگتا ہے۔ فلم کے کردار کوہ ہمالہ کے خوبصورت مناظر اور برف پوش پہاڑیوں کے ارد گرد گھومتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاٹس کے کمپوژیشنز کا کوئی جواب نہیں۔ ایک ایسے علاقے کی کہانی ہے جہاں قدرتی مناظر اور خوبصورتی فلم کے بہترین جمالیاتی پہلو بن گۓ ہیں۔ فلم میں موسیقی کی بنیاد کلاسیکل ہندوستانی سروں پر مبنی ہے۔ جگہ جگہ مہا بھارت اور دیو مالائی اشلوک کی بھی اس میں جھلک ملتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاپ اور فیوژن میوزک کا بول بالا ہو گھئی نے گانوں میں کلاسیکل موسیقی کا استعمال اپنے خصوصی انداز میں کیا ہے۔ ایشا شروانی ایک زبردست رقاصہ ہیں اور انکی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کیا گیا ہے۔ فلم کے یہ دونوں پہلو قابل تعریف ہیں لیکن اس میں سست رفتاری ناظرین کو پسند آئیگی یا نہیں یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ کسنا سبھاش گھئی کا ایک بڑا خواب تھا لیکن بالی ووڈ میں ایسی پہلے بھی کئی فلمیں بن چکی ہیں۔ یہ لگان کی طرز پر بننے والی دوسری فلم ہے۔ لیکن لگان کے مقابلے میں کِسنا کمزور فلم ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس فلم میں ماضی میں بننے والی اسی طرح کی فلموں سے مواد لیا گیا ہے اور نۓ طریقے سے جوڑ جاڑ کر پیش کیا ہے۔ ایک دو مناظر میں شاٹس دہرائے بھی گۓ ہیں۔ مسٹر گھئی نے اس فلم کے ذریعے انگریز اور ہندوستانیوں کے درمیان حقارت اور نفرت کے علاوہ دوستی کے پہلو کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ فلم میں ایک سفید اور ایک کالا گھوڑا ان دونوں نسلوں کی نمائندگی کر تے ہیں جو ساتھ ساتھ دیکھے گۓ ہیں۔ ہندوستان میں کسنا کا جو پرنٹ ریلیز کیا گيا ہے اس میں عام ہندی فلموں کی طرح کوئی خاص عریاں مناضر نہیں ہیں۔ لیکن اطلاعات کے مطابق جو پرنٹ بیرونی ممالک میں ریلیز کیا گیا ہے اس میں بوسے بازی کے مناظر ہیں۔ ہندوستانی ناظرین وی ویک اور انٹینیو کی بوسے بازی سے محروم رہیں گے۔ حال میں ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کے اداکاروں کے کئی مشترک منصوبوں کا ذکر ہوتا رہا ہے اور اس فلم میں ہالی وڈ کی اداکارہ انٹینیو نے اچھی کار کردگی کا مظاہر کیا ہے۔ وی ویک اوبرائے صرف کِسنا کے رول میں فٹ نظر آتے ہیں لیکن کئی مناظر میں جس طرح کے تاثرات کی ضرورت تھی وہ کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ سبھاش گھئی کا نام کامیابی کی ضمانت ہے لیکن ایسا لگتا ہے اس بار شاید یہ طلسم کام نہ کرے۔ روایتی طور اپنی ہر فلم میں سبھاش گھئی ایک بار خود ظاہر ہوتے تھے لیکن اس بار وہ بھی ندارد ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||