پاٹے خان دلی میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے مشہور رفیع پیر تھیٹر گروپ کا ایک وفد جمعہ کے روز واہگہ کے راستے دلی روانہ ہو گیا ہے جہاں وہ سولہ جنوری کو اپنا موسیقی پر مبنی پنجابی ڈرامہ پاٹے خان پیش کرے گا۔ رفیع پیر تھیٹر گروپ کے بیس سے زیادہ اداکار و ہدایت کار عثمان پیر زادہ کے ہمراہ انڈیا کے لیے روانہ ہوئے۔ یہ لوگ دلی نیشنل اسکول کی دعوت پر گئے ہیں اور سولہ جنوری کو کامنی آڈیٹوریم میں اپنا ڈرامہ پاٹے خان پیش کریں گے۔ اس میں سماجی اور سیاسی موضوعات پر طنز کیا گیا ہے یہ ڈرامہ نوٹنکی کی طرز پر بنایا گیا ہے جس میں پاکستان اور ہندوستان کی پتلیوں کا روایتی بھانڈ کردار پاٹے خان مکالموں کے ذریعے کہانی بیان کرتا ہے ایک ایسے گاؤں کی جہاں لوگ بہت پرجوش طریقے سے ایک بادشاہ کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں۔ اور اس کا دربار لگانے کے لیے انتظامات میں مصروف ہیں۔ پاٹے خان میں نغموں اور مکالموں کے ذریعے روایتی فوک انداز میں پتلیوں اور کرداروں کے ذریعے کہانی بیان کی گئی ہے اور دکھایا گیا ہے کہ گو لوگ بادشاہ کے ظلم وستم سے تنگ ہیں لیکن انہیں کچھ امید بھی ہے کہ وہ دربار لگانے اور ان کے مطالبے سننے کے بعد ان کے لیے کوئی اچھا کام کرے گا۔ تاہم اس سے پہلے کہ بادشاہ وہاں پہنچے مقامی جاگیردار اور نوابین چیزوں کو اس طرح اپنے مقصد کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بادشاہ کس طرح ان کے مفاد اور اقتدار کو مضبوط بنا دے۔ لوگ بغاوت کر دیتے ہیں اور گاؤں بدامنی اور انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس ڈرامے میں پاٹے خان کا کردار وہ بھانڈ ہے جو روایتی طور پر برصغیر کے نوابوں کے ہاں ہوا کرتا تھا اور وہ اپنے مکالموں کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ نوابوں اور آج کے حکمرانوں میں کوئی فرق نہیں بلکہ کل بھی عوام کا استحصال ہوتا تھا اور آج بھی۔ ایک موقع پر جب ایک خاکروب سے کہاجاتا ہے کہ کیا اسے پتہ ہے کہ بادشاہ سلامت آنے والے ہیں تو وہ کہتا ہے ہمیں کیا کوئی آئے یا جائے بعد میں گند تو ہمیں صاف کرنا ہے۔ اس ڈرامے میں ہارمونیم، ڈھولک، ڈھول، طبلہ اور بانسری کے ذریعے موسقی پیش کی گئی ہے اور اس پرفارمنس میں رقص بھی شامل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||