بالی وڈ: 2005 میں کیا کچھ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ناکام فلموں کے تناسب کو سامنے رکھتے ہوئے بڑے بجٹ کی فلم بنانا اب مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے لیکن بالی وڈ والے فلمیں بنانے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے ہیں؟ پے در پے ناکامیوں کا ایک مثبت اثر یہ ہوا ہے کہ اب نئے نئے موضوعات کی تلاش جاری ہے اور سبھاش گھئی جیسے کمرشل فلم میکر کو بھی انیس سو سینتالیس کے زمانے سے استفادہ کرنا پڑا اور ایک مغربی حسینہ کو اپنی فلم ’کسنا‘ میں مرکزی کردار دینا پڑا۔
سنجے لیلا بھنسالی اور کرن جوہر بھی بڑے بجٹ کی گھریلو کہانیوں سے نکل کر نئے تجربات کر رہے ہیں جبکہ تجربات کے بادشاہ رام گوپال ورما اس برس ایک پرانے اور آزمودہ موضوع کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ توآئیے اس برس نمائش کے لیے پیش کی جانے والی چند فلموں پر تفصیلی نگاہ ڈالی جائے۔ پری نیتا: معروف بنگالی ناول نگار سرت چندر چیٹر جی (1938-1876) کی بہت سی کہانیوں کو سیلولائیڈ پر منتقل کیا جا چکا ہے لیکن ان کی زنبیل میں اب بھی رنگ برنگی داستانوں کا ڈھیر لگا ہے اور بالی وڈ والے ابھی برسوں تک اس خزانے سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ وِدھو ونود چوپڑا اس سے پہلے پرندہ، 1942 اے لو سٹوری اور منا بھائی ایم بی بی ایس جیسی کامیاب فلمیں بنا کر بالی وڈ میں نام پیدا کر چکے ہیں۔
اب انہوں نے معروف بنگالی ناول ’پری نیتا‘ کو فلمایا ہے اور اس میں پہلی مرتبہ سنجے دت اور سیف علی خان ایک دوسرے کے مقابل آ رہے ہیں۔ فلم کی ہدایتکاری کے فرائض پردیپ سرکار کو سونپے گئے ہیں۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سرت چندر چیٹر جی کا یہ ناول ہندی میں سب سے پہلے 1953 میں بمل رائے نے فلمایا تھا اور اس میں اشوک کمار اور مینا کماری نے کام کیا تھا۔ اس سے پہلے 1942 میں اِس پر بنگالی فلم بن چکی تھی جسے پشپا پتی چیٹر جی نے ڈائریکٹ کیا تھا۔ منگل پانڈے: مصنف فرخ ڈھونڈی نے برطانوی ٹی وی چینل فور کے لیے مزاحیہ سیریز تندوری نائٹس لکھ کر نام پیدا کیا تھا۔ اس کے بعد وہ چینل فور کے باقاعدہ ملازم ہو گئے اور ایک کمیشننگ ایڈیٹر کے طور پر انہوں نے بہت سے ڈرامے اور فلمیں دیگر مصنفین سے لکھوائیں۔ اس حیثیت میں ان کی شخصیت بہت متنازعہ بھی رہی لیکن خود ایک مصنف کے طور پر انہوں نے دوستوں، دشمنوں سبھی سے داد حاصل کی۔ ملازمت سے الگ ہونے کے بعد انہوں نے کُل وقتی فلمی مصنف کے طور پر کام شروع کر دیا ہے اور اس برس سامنے آنے والی دو فلمیں انہی کے زور قلم کا نتیجہ ہیں یعنی سبھاش گھئی کی کِسنا اور عامر خان کی منگل پانڈے جس کا انگریزی نام The Rising ہے۔ کہانی 1857 کی جنگ آزادی کے ایک ہیرو منگل پانڈے کے گرد گھومتی ہے جس کا کردار خود عامر خان نے کیا ہے۔ ہندوستانی لڑکی ’جوالا‘ کے لیے اصل میں ایشوریا رائے کو لیا گیا تھا لیکن کانٹریکٹ کی چند شقوں پر اسے اعتراض تھا چنانچہ اس کی جگہ امیشا پٹیل کو لے لیا گیا جسے عامر خان نے ٹی وی کے ایک کوئز شو میں دیکھا تھا اور اس کی ذہانت سے بھی بہت متاثر ہوا تھا۔
فلم کی ہدایتکاری کے فرائض کیتن مہتا کے سپرد ہیں جو کہ مرچ مصالحہ اور مایا میم صاحب جیسی فلموں کے ذریعے شہرت کے آسمان پر پہنچے تھے۔ BLACK : ہم دل دے چکے صنم اور دیو داس میں رنگ و نور کی برکھا برسانے کے بعد ڈائریکٹر سنجے لیلا بھنسالی نے ایک بالکل متضاد قسم کا موضوع چنا ہے یعنی نابینا لوگوں کی دنیا۔ پرانے فلم بینوں کا خیال ہے کہ اس فلم پر گورو دت کی من چاہی لیکن کاروباری طور پر ناکام فلم ’ کاغذ کے پھول‘ کی گہری چھاپ ہے۔ چونکہ BLACK کے مصنف بھی خود سنجے لیلا بھنسالی ہیں اس لیے فلم بینوں کی توقعات بہت اونچی ہیں۔ کاسٹ میں امیتابھ کے ساتھ اب رانی مکھرجی کو لیا گیا ہے جبکہ اصل کاسٹ میں ان کی جگہ کرینا کپور تھیں۔ لیکن ان کی بہن کرشما کپور سے امیتابھ کے بیٹے ابھیشیک کی منگنی ٹوٹ جانے کے بعد امیتابھ بچن نے کرینا کپور کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ کال: کرن جوہر نے اب تک بڑی کاسٹ کی مہنگی گھریلو کہانیاں فلمائی ہیں یا رومانوی ڈرامے پر انحصار کیا ہے (کچھ کچھ ہوتا ہے، کبھی خوشی کبھی غم، کل ہو نہ ہو) لیکن اب انہوں نے کال کے نام سے ایک تھرلر تیار کیا ہے۔ شاہ رخ خان اس فلم کے شریک پروڈیوسر ہیں لیکن انہوں نے فلم کے صرف ایک منظر میں مہمان اداکار کے طور پر کام کیا ہے۔
فلم کا سکرپٹ کرن جوہر نے خود لکھا ہے لیکن ہدایتکاری کے فرائض اپنے اسسٹنٹ سوہم شاہ کو سونپے ہیں۔ کاسٹ میں اجے دیوگن، وویک اوبرائے، لارا دتا اور ایشا دیول کے نام قابل ذکر ہیں۔ سرکار: پچھلے چند برس کے دوران بالی وڈ کے جس فلم میکر نے سب کو ششدر کر دیا وہ رام گوپال ورما ہیں۔ ’رنگیلا‘ کی ہلکی پھلکی تفریحی کہانی سے لے کر داؤد اور ستیہ کی جرم و سزا والی گھمبیر داستانوں تک رام گوپال ورما نے ہر گھاٹ کا پانی پیا اور پھر اچانک ایک مافوق الفطرت موضوع پر فلم بھوت بنا کر اپنے ناقدین کو بھی انگشت بدنداں کر دیا۔ بھانت بھانت کے ان تمام تجربات کے بعد اس برس رام گوپال ایک کلاسیکی موضوع کی طرف لوٹے ہیں یعنی گاڈ فادر کا خاندانی مافیا۔ ان کے دل میں یہ خیال غالباً امیتابھ بچن اور ان کے اداکار بیٹے ابھیشیک بچن کو پہلو بہ پہلو دیکھ کر آیا۔ مافیا کی میراث بھی اسی طرح باپ سے بیٹے کو منتقل ہوتی ہے۔ اور دونوںاداکاروں کا اصل زندگی میں باپ بیٹے کا رشتہ ناظرین کے ذہنوں میں حقیقت کی جھلک پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ فرانسس فورڈ کپولا نے اپنے بعد آنے والے سبھی ہدایتکاروں کو کسی نہ کسی سطح پر متاثر کیا ہے اور ان کی فلم گاڈ فادر آج بھی بہت سے فلم میکرز کے لیے فلمی بائیبل کا درجہ رکھتی ہے۔ لیکن رام گوپال ورما کا سابقہ کام دیکھنے کے بعد یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ فلم سرکار میں انہوں نے محض ایک فلمی گرو کو خراج عقیدت ہی پیش نہیں کیا ہو گا بلکہ جنوبی ایشیا کے ناظرین کو ایک انتہائی دلچسپ فلم بھی مہیا کی ہو گی۔ کاسٹ میں امیتابھ بچن اور ابھیشیک کے علاوہ تانیشا اور قطرینہ کیف بھی شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||