’غیرملکی فلمیں دکھانے دیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے نصف سے زیادہ اور پنجاب کے پچھہتر فیصد سینما گھر بند ہوچکے ہیں اور سینما مالکان کی تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت تمام سینما گھروں کو بند ہونے سے بچانے کے لیے بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت دے۔ پیر کو لاہور سینما مالکان ایسوسی ایشن نے لاہور میں ایک اخباری کانفرنس کی جس میں لاہور ایسوسی ایشن کے صدر امجد شاہین نے کہا کہ انہوں نے حکومت سے چھ ماہ پہلے بھارتی فلمیں درآمد کرنے کی درخواست دی تھی لیکن ابھی تک اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ انہیں سیمناؤں میں فلمیں دکھانے کے لیے بھارتی فلموں کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فلم ساز فلمیں نہیں بنارہے کیونکہ ان کے لگائے ہوئے پیسے بھی ان فلموں سے وصول نہیں ہوتے۔ فلم ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا تھا کہ پنجاب کے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں پچھہتر فیصد سیمنا گھر بند ہوچکے ہیں جبکہ لاہور میں دس سال پہلے پچپن سینما ہوتے تھے اور اب صرف تئیس رہ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سینماؤں کی اتنی بری حالت ہے کہ آٹھ سو افراد کی گنجائش کے سینما میں اسی سے ایک سو لوگ فلم دیکھنے کے لیے آتے ہیں جس سے بجلی کا خرچ پورا کرنا بھی مشکل ہے۔ فلم ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے جو تفریحی ٹیکس معاف کیا تھا اس وجہ سے سینما گھر پرانی فلمیں دکھا کر کاروبار کررہے ہیں لیکن نئی فلمیں میسر نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال صرف بیس فلمیں بنیں جبکہ ان میں سے صرف ایک فلم کامیاب ہوئی۔ لاہور سینما مالکان کا کہنا ہے کہ سینما گھروں کو زندہ رہنے کے لیے سال میں پچاس سے پچپن فلمیں درکار ہیں۔ لاہور سینما ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ حکومت بھارت ، ایران اور روس اور دوسرے ملکوں کی فلموں کی نمائش کی اجازت دے تو سینما گھر قائم رہ سکتے ہیں ورنہ سب بند ہو جائیں گے اور عوام کو سسستی تفریح دینے والا ایک ذریعہ ختم ہوجائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||