BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 December, 2004, 08:43 GMT 13:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیتاجی کی زندگی پر بنیگل کی نئی فلم

ہدایت کار شیام بنیگل
ہدایت کار شیام بنیگل
ہدایت کار شیام بنیگل کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ انہوں نے ممو،
سرداری بیگم، منتھن اور زبیدہ جیسی یادگار فلمیں فلمی انڈسٹری کو دی ہیں۔ جنوری کے مہینے میں ان کی نئی فلم ’بوس: دی فورگوٹن ہیرو‘ ریلیز ہو رہی ہےجو آزادی کی لڑائی کے اہم کردار نیتا جی سبھاش چندر بوس کی زندگی پر مبنی ہے۔

بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات میں شیام بنیگل نے اپنی نئی فلم کے موضوع کے بارے میں بتایا کہ اس فلم کے ذریعے انہوں نے نیتاجی کی زندگی کے ان پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے جن کا علم عام طور سے لوگوں کو نہیں ہے۔

فلم میں 1940 سے 1945 تک کی نیتاجی کی زندگی کے پانچ برس کااحاطہ کیا گیا ہے۔ ان کے سفر کی شروعات کلکتہ سے ہوتی ہے جہاں سے فرار ہوکر وہ افغانستان پہنچے۔ افغانستان میں روس کا ویزہ نہ ملنے کی وجہ سے انہیں اٹلی کے پاسپورٹ پر جرمنی جانا پڑا۔ جرمنی پہنچ کر انہوں نے ’فری انڈیا لیجین‘ نامی ایک تنظیم قائم کی۔

لیکن ہٹلر کی طرف سے زیادہ توجہ نہ ملنے کی وجہ سے وہ ایک سب مرین کے ذریعے آگے بڑھ گۓ۔ تاہم آزاد ہند فوج کے سربراہی کرتے ہوئے1944 -1945 کے دوران برما میں امریکی و برطانوی فوج کے خلاف انہوں نے لڑائی لڑی اور پھر امپھال کے ایک شہر مویرانگ میں ہندوستانی پرچم بھی لہرایا۔

نیتا جی کے کردار کے لیےموزوں اداکار کی تلاش کے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پورے ہندوستان سے تقریبا 79 لوگوں کا انہوں نے آڈیشن کیا جس کے بعد انہوں نے مراٹھی تھیئٹر کے اداکار سچن کھیڈیکر کو منتخب کیا۔

سچن کو منتخب کرنے کی سب سے بڑی وجہ ان کا ڈیل ڈول اور ان کا چہرا تھا۔ ان کی لمبائی، چہرا اور ان کا وزن بالکل نیتا جی جیسا ہے۔

شیام بنیگل نے بتایا کہ یہ فلم نیتاجی کی سالگرہ کے موقع پر یعنی 23 جنوری کے آس پاس ریلیز ہوگی۔

اپنے اگلے پروجیکٹ کا ذکر کرتے ہوئے بنیگل نے بتایا کہ ان کی اگلی فلم ایک ’لو اسٹوری‘ ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک اس فلم کے لیے کسی اداکارکو سائن نہیں کیا گیا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں ایشوریا رائے اور کرینہ کپور سے بات چیت ہوئی تھی تاہم تاریخ نہ ملنے کی وجہ سے بات آگے نہ بڑ ھ سکی۔

بالی ووڈ کا ٹرینڈ مسلسل بدل رہا ہے اور اسی طرز پران کی خود کی فلموں کا موضوع بھی بدلتا نظر آتا ہے۔ جہاں پہلے ان کی فلم میں ایک ’ایگریسو‘ یعنی جارحانہ کردار لیڈ رول میں ہوتا تھا وہیں آج ایسا کردار ان کی فلموں میں نظر نہیں آتا۔ اس سوال کے جواب میں بنیگل نے کہا کہ ان کے لیے فلم کا سبجیکٹ سب سے مقدم پہلو ہے اور وہ اپنا کام دہرانےمیں یقین نہیں کرتے۔

شیام بنیگل کی تقریبا ہر فلم کسی نہ کسی سماجی پہلو کو اجاگر کرتی ہے۔ ان کی فلم ممو اور زبیدہ اس دور میں آئی تھیں جب ملک بابری مسجد رام جنم بھومی جیسے سنجیدہ مسئلے سے دوچار تھا۔ اس دور میں ایسی فلم بنانے کی وجوہات کے بارے میں بنیگل کہتے ہیں کہ کسی ملک کے سماج کی صورت حال کا اندازہ اس کی اقلیت کے سماج سے لگایا جاتا ہے۔

’بابری مسجد کے انہدام کے بعد پورے ہندوستان میں اقلیتیں شدید طور پر عدم تحفظ کے احساس سے گزر رہی تھیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ممو، زبیدہ اور سرداری بیگم جیسی فلمیں بنانے کا اصل مقصد یہی تھا کہ وہ دنیا کے سامنے ایک سوال رکھ سکیں کہ ایک انسان دوسرے انسان کو انسان کیوں نہیں سمجھتا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد