’کوئل‘ پچھتر برس کی ہو گئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی مشہور گلوکارہ لتا منگیشکر جنہوں نے 50,000 سے زائد گانے گائے ہیں 75 برس کی ہو گئیں ہیں۔ ان پر رحمت ہے۔ ان پر خدا کی رحمت ہے اور جن پر رحمت ہوتی ہے وہ کبھی ناکام نہیں ہوتے۔ لتا منگیشکر کے کیریئر میں کبھی کمی نہیں آئی۔ ان کے اور دوسرے بھارتی گلوکاروں کے درمیان کوئی موازنہ نہیں ہو سکتا۔ دوسرے گلوکار موسیقی کا پیچھا کرتے ہیں اور لتا کے کیس میں موسیقی ان کا پیچھا کرتی ہے۔ پچھتر برس کی عمر میں انہوں نے میری نئی فلم میں گانے گائے ہیں اور ہمیشہ کی طرح مجھے ان کی آواز میں خدا کی رحمت نظر آئی ہے۔ میں لتا کے سب گانے پسند کرتا ہوں لیکن ان میں سے میرا پسندیدہ گانا چننا بہت مشکل ہے۔ جب میرا نام نے بولی وڈ کی فلموں میں آنے لگا اس سے کہیں پہلے لتا منگیشکر اس نگری میں مشہور ہو چکی تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ میں 1950 میں جب اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر کام کرتا تھا تو انہیں سٹوڈیو میں گاتے ہوئے دیکھا کرتا تھا۔ میں ان سے ذرا دور رہتا، کیونکہ وہ میرے جیسے لوگوں کے حوالے سے بہت بڑی شخصیت تھیں۔
لتا نے 1959 میں میرے لیے میری فلم ’دھول کا پھول‘ میں گانا گایا۔ گانے کے بول تھے ’تیرے پیار کا آسرا چاہتا ہوں‘۔ وہ ایک سحر انگیز گانا تھا۔ مجھے یقین نہیں آتا تھا کہ شہرۂ آفاق گلوکارہ میری فلم کے لیے گانا ریکارڈ کروا رہی ہیں۔ اس طرح ایک ڈائریکٹر اور گلوکارہ کے رشتے نے جنم لیا، لیکن اس میں وقت لگا۔ ہم ان کی اتنی عزت کرتے تھے کہ ہم ان سے بات کرتے ہوئے نروس ہو جاتے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ ہمارا رشتہ مستحکم ہوتا گیا۔ اب لتا مجھے یش بھائی کہتی ہیں اور میں انہیں دی دی کہہ کر پکارتا ہوں۔ میرا خیال ہے جن لوگوں کو لتا منگیشکر کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملتا ہے، جو انہیں جاتے ہیں اور ان کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں اپنے آپ کو خش قسمت سمجھنا چاہیئے۔ میری دعا ہے کہ وہ لمبی عمر جئیں اور ہمیں اپنے سحر انگیز گانوں سے نوازتی رہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||