نوکرانی جو ادیب بن گئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں صفائی کا کام کرنے والی ایک گھریلو ملازمہ اب ایک کامیاب مصنفہ بن گئی ہیں۔ بے بی ہالدار کی کتاب ’آ لو آندھاری‘ (روشنی اور تاریکی) ہندی زبان میں شائع ہوئی ہے۔ کتاب لکھنے سے قبل وہ دہلی میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھیں اور اب ان کی کتاب کا دوسرا ایڈیشن بازار میں آگیا ہے اور خوب فروخت ہورہا ہے۔ معروف بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین نے بے بی ہالدار کی کتاب کو بنگالی زبان میں شائع کیا ہے۔ بے بی ہالدار اپنی شادی سے خوش نہیں تھیں اور بھاگ کر کچھ عرصے قبل شہر آگئیں۔ انہوں نے بہت سے لوگوں کے گھروں میں کام کیا۔ انہیں ہندی کے معروف مصنف پریم چند کے پوتے پروفیسر پربودھ کمار کے گھر میں بھی ملازمت کا موقع ملا۔ پروفیسر کمار کی نظر اس بات پر پڑی کی ان کی ملازمہ کتابوں کی الماریوں کی صفائی میں کافی وقت لگاتی ہے، بالخصوص ان کتابوں کی صفائی میں جو بنگالی زبان میں لکھی گئی ہیں۔ بی بی سی ہندی ڈاٹ کام کے صحافی آلوک پرکاش پوتول کو بے بی ہالدار نے بتایا: ’ایک دن انہوں نے ایک کتاب میں میری دلچسپی پکڑلی اور کہاں کہ اس کتاب کا نام بتاؤ۔ میں ہچکچا رہی تھی کیونکہ یہ تسلیمہ نسرین کی کتاب تھی مائی گرل ہوڈ (جب میں لڑکی تھی)۔‘ پروفیسر کمار نے یہ کتاب نوکرانی کو دی اور فرصت کے وقت میں پڑھنے کو کہا۔ بے بی ہالدار کا کہنا ہے: ’بعد میں انہوں نے مجھے ایک کاپی اور قلم دی اور کہا کہ میں اپنی زندگی کے بارے میں لکھوں۔‘ بےبی ہالدار کیلئے لکھنا مشکل تھا، انہوں نے بچپن میں ہی پڑھائی ترک کردی تھی۔
تاہم انہوں نے روزانہ کام کرنے کے بعد لکھنا شروع کردیا، اور رات میں دیر تک لکھتی رہتیں۔ انہوں نے اپنے والد کے بارے میں لکھا جو ان کی فکر نہ کرتے تھے، ماں کے بارے میں جس نے انہیں چھوڑ دیا اور اس شخص کے بارے میں جس سے ان کی تیرہ سال کی عمر میں شادی ہوئی۔ وہ کہتی ہیں: ’پروفیسر کمار میری تحریر پڑھتے، غلطیاں صحیح کرتے، فوٹو کاپی کرتے۔ اور میں لکھتی رہی۔ مہینوں لکھتی رہی۔‘ پروفیسر نے ان کی تحریر دوستوں کو دکھائی جو ان کی یادداشت سے متاثر ہوئے۔ پھر انہوں نے بےبی ہالدار کی تحریر کا ہندی میں ترجمہ کیا اور کلکتہ میں ایک ناشر نے اسے شائع کیا۔ بےبی ہالدار نے اب اپنی دوسری کتاب مکمل کرلی ہے۔ وہ کہتی ہیں: ’میری دوسری کتاب اس وسیع تبدیلی کے بارے میں ہے جو میری زندگی میں پہلی کتاب کے شائع ہونے کے بعد آئی۔ پہلے سماج نے مجھے صرف ایک نوکرانی کی حیثیت سے دیکھا اور میری طرف اس کا رویہ ٹھیک نہیں تھا، اور پھر اچانک سب کچھ بدل گیا۔‘ اب بے بی ہالدار کو روزانہ سینکڑوں خطوط ملتے ہیں۔ ان کی زندگی اور کتاب اخباروں اور ٹیلی ویژن کی سرخیوں میں ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ حیرت زدہ ہیں۔ اور اب ان کے بچے اپنی ماں کے بارے میں دوسروں سے بات کرنے میں شرماتے نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||