دلتوں سے امتیازی سلوک جاری ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں پچھڑی ذات کے لوگوں یعنی دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک ایک عام بات ہے۔ مختلف قوانین کے باوجود انہیں معاشرے میں برابری کامقام حاصل نہیں ہے اور انکا استحصال بدستور جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے لیے جہاں فرسودہ مذہبی خیالات ذمہ دار ہیں وہیں ذات پات کی سیاست سے اسے مزید بڑھاوا ملتا ہے۔ دلتوں پر مظالم اور انکے ساتھ نا انصافی کے خلاف آئے دن آوازیں اٹھتی رہتی ہیں۔ بعض دفعہ تو ’اعلیٰ‘ ذات اور پچھڑے طبقے میں جاری کشمکش سے تشدد بھی بھڑک اٹھتا ہے۔ ایسے ہی ایک واقعے میں کچھ روز قبل دلتوں کی ایک بستی کو نذر آتش کردیا گیا تھا۔ دلتوں کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ’پیپلز واچ‘ کے ایک رکن آدرش پون کا کہنا تھا کہ ’اعلیٰ‘ ذات کا طبقہ چاہتا ہے کہ اقتصادی طور پر دلت پنپنے نہ پائیں۔ ’جو دلت تعلیم یافتہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ مدت سے انکا استحصال ہوا ہے اسی لیے وہ کسی کے سائے میں رہنے سے انکار کرتے ہیں۔ ایسے میں اعلیٰ ذات کے لوگ کئی بار انکے خلاف طاقت کا استعمال کرتے ہیں‘۔ دلتوں کی اکثریت آج بھی یہ مانتی ہے کہ اعلیٰ ذات کے ہندو دلتوں پر ہر طرح سے زبر دستی کرتے ہیں تاکہ وہ اپنا دبدبہ قائم رکھ سکیں۔ پچھڑے طبقے کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کے ایک کارکن وشوناتھن ہنس بتاتے ہیں کہ انکے گاؤں میں آج بھی ہریجنوں کو نام نہاد اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے کنوئیں سے پانی بھرنے کی اجازت نہیں ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ’پنڈت دلتوں کی شادیوں میں اشلوک پڑھنے نہیں آتے ہیں۔ اس طرح ہوتا ہے ہمارا سماجی و اقتصادی استحصال‘۔
حال ہی میں جب بعض نوجوانوں نے اس کی مخالفت کی تو گاؤں کی پنچایت نے دلتوں کا سماجی بائیکاٹ کر دیا۔ ان سے دکانداروں نےخرید و فروخت بند کردی۔ آخر کیا وجوہات ہیں کہ آزاد ہندوستان میں جہاں سب کو مساوی حقوق حاصل ہیں ایک خاص طبقے کو حقارت کی نظر دیکھا جاتا ہے۔ انڈین جسٹس پارٹی کے صدر ادتیہ راج بتاتے ہیں کہ ذات پات پر مبنی مذہبی خیالات کی جڑیں بہت مضبوط ہیں اور وہی سوچ اس طرح کے رویے کے لیے ذمہ دار ہے۔ ’ہندو مذہب میں وروانا یعنی ذات پات کے عقیدے نے ایک طرح سے نچلی ذاتوں پر ظلم کو جائز بتایا ہے۔ اور یہی فکر اسکی ذمہ دار ہے۔‘ سابق وزیراعظم وشوناتھ پرتاب سنگھ کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی سیاست میں ذات پات کا اچھا خاصا اثر ہے۔ اسی لیے کمی کی بجائے اس سوچ میں اضافہ ہورہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’بعض سیاسی جماعتیں ذات پات کی بنیاد پر سیاست کرتی ہیں، انکے ایجنڈے پورے سماج کے لیے نہیں بلکہ خاص ذاتوں کے لیے ہیں اسی لیے اسکی بنیادیں مزید مضبوط ہو رہی ہیں‘۔ ادیتہ راج کا کہنا ہے کہ دلت ڈاکٹر امبیڈکر کے بتائے ہوئے راستے سے بھٹک گئے ہیں اور خود انکا طرز عمل ایسا ہے کہ لوگ انکا استحصال آسانی سے کرتے ہیں۔ ’دلت خود آپس میں ایک دوسرے سے تفریق کرتے ہیں۔ وہ مندر میں جاتے ہیں، وہاں انکی بے عزتی کی جاتی تو وہاں جانے کی ضرورت کیا ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے مندر میں جانے سے منع کیا تھا۔انہیں بدھ مذہب کے جھنڈے کے نیچےمتحد ہونے کو کہا جاتا ہے تو وہ سنتے نہیں ہیں، وہ خود بھی اپنی زبوں حالی کے ذمہ دار ہیں۔‘ مسٹر راج کا کہنا تھا کہ جب تک ہندو سماج کے اعلیٰ طبقے کی سوچ میں تبدیلی نہیں آتی اور خود دلت ہندو مذہب کے ذات پات کی تقسیم پر مبنی نظام کےعقیدے کو نہیں ترک کرتے اس وقت تک انہیں سماج میں برابری کا درجہ نہیں مل سکتا۔ ہندوستان میں جمہوری قدروں کی جڑیں مضبوط ہورہی ہیں اور ملک تیزی سے اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن ہے لیکن ذات پات پر مبنی تفریق و امتیازی سلوک ملک کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ہندوستان کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی آج بھی غیرت اور وقار کے تلاش میں سرگرداں ہے۔ | اسی بارے میں کتنی مضبوط ہیں ذات پات کی جڑیں؟ 20 August, 2005 | انڈیا پنجاب:لڑکیوں سے امتیازی سلوک16 November, 2004 | انڈیا یہ بھی ہے انڈیا، دلتوں کا بائیکاٹ24 January, 2005 | انڈیا بھوپال: گینگ ریپ کے ملزمان گرفتار11 July, 2004 | انڈیا بہار انتخابات اور نکسلی تحریک24 January, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||