BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 January, 2005, 15:36 GMT 20:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یہ بھی ہے انڈیا، دلتوں کا بائیکاٹ

دلت
دلت اپنے ساتھ کیے جانے والے سلوک اور امتیاز پر احتجاج بھی کرتے رہتے ہیں
ہندوستان میں پچھڑی یعنی پسماندہ یا نیچ قرار دی جانے والی ذات کے ہندوؤں کے ساتھ چھوت چھات یوں تو عام چیز ہے لیکن ان کے ساتھ امتیازی سلوک کا ایک سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔

ریاست تامل ناڈو کےایک گاؤں میں اعلی طبقے کے لوگ دلتوں کو چپل اور جوتے تک نہیں پہننے دیتے۔ اس کے علاوہ انہیں کہیں آنے جانے کے لیے سائیکل استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

اس گاؤں کے رہنے والے سریش نے جب اس روایت کی خلاف ورزی کی تو گاؤں کے نام نہاد اونچی ذات والوں نے اس پر زبردست ہنگامہ کیا دلتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے۔

جنوبی ریاست تامل ناڈو کے ایک گاؤں گونڈن پٹی میں چھوت چھات کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ دلت آج بھی اونچے طبقے کے ہندوؤں کی غلامی کرتے ہیں۔ اس علاقے میں اروندتی اور پریار برادریوں کے دلت آباد ہیں۔

چھوت چھات جیسے مسائل پر کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ’پیپلزواچ‘ نے اس گاؤں کا دورہ کیا ہے۔ تنظیم کی ایک رکن ایس سوتیانے اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا:

’جب اس واقعے کی شکایت پولیس سے کی گئی تو کاٹھ برادری نے انکا سماجی بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دلتوں کی روزی روٹی گاؤں کے مالدار ہندوؤں کی زمین پر محنت مزدوری سے وابستہ ہے‘ ۔


اس سماجی بائیکاٹ کی نوعیت یہ ہے کہ کوئی بھی دکاندار ان سے خرید و فروخت نہیں کرتا۔ خود ان کے پاس زمین نہیں ہے اور انہیں کھیتوں میں رفاع حاجت، یہاں تک پیشاب کی بھی اجازت نہیں کیونکہ کھیت ان کے ہیں جنہوں نے ان کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔

’اب وہ کہیں محنت مزدوری بھی نہیں کر سکتے اس لیے ان کی روٹی کے لالے پڑ گئے ہیں‘ ۔

قانونی طور پر اس طرح کا امتیاز سنگين جرم ہے ۔ شکایت کے بعد پولیس علاقے میں پہنچ چکی ہے لیکن غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ پولیس ہی اس نظام کو فروغ دیتی ہے اور زیادہ تر افسران اونچی برادری کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔

سویتا کا کہنا تھا:
’پولیس اکثر صلح کی بات کرتی ہے اور پھر معاملہ رفع دفع ہوجاتا ہے لیکن دلتوں کی مشکلات کم نہیں ہوتیں‘۔

یہ پہلا موقع ہے کہ اس ظلم کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔ پولیس نے گاؤں کو اپنی حفاظت میں لے رکھا ہے اور باہر کا کوئی بھی فرد اندر نہیں جا سکتا۔ یہاں تک کہ اندر کھانا بھی لے جانا منع ہے۔

پولیس کہتی ہے کہ باہر کے لوگوں کے آنے سے نظم و ضبط بگڑنے کا خطرہ ہے۔ اس معاملے پر آج تک کوئی خاص کارروائی نہیں ہوئی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ صدیوں سے چھوت چھات جاری ہے‘۔

ہندو مذہب، خصوصاً سناتن دھرم کے نظریات کچھ ایسے ہیں جن میں ذات پات کے امتیاز کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے ۔

جنوبی ہندوستان میں کانچی کا مٹھ اور شنکرآچاریہ اس مذہب کی حفاظت کے لیے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس نظام نے جنوبی ہندوستان میں ذات پات کی جڑیں مضبوط کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔

شنکر آچاریہ جینندر سرسوتی دلتوں کے علاقوں کا بھی دورہ کرتے ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ کوئی دلت انہیں چھو نہیں سکتا۔

حال ہی میں جب شنکر آچاریہ کو پولیس نے ایک قتل کے معاملے میں گرفتار کیا تھا تو جہاں کئی طبقوں میں اس کے خلاف آواز اٹھائی وہیں بہت سے علاقوں میں خوشی کا اظہابھی ہوا۔

اس کی بھی وجہ وہی تھی کہ مٹھ ایک خاص برادری کے مفاد کا تحفظ کرتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد