BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 August, 2005, 11:11 GMT 16:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہار میں خشک سالی کا خطرہ

News image
ایک جانب مہاراشٹرا میں لوگ کثرت بارش سے پریشان ہیں تو ادھر بہار میں لوگ قطرے قطرے کے لیے اپنی نگاہیں آسمان پر لگائےہوئے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں سے بارش نہیں ہوئی ہے اور لوگوں کو ساون میں جیٹھ کی تپش کا احساس ہو رہا ہے۔ ریاست کے تمام علاقوں میں دن میں گردو غبار اڑ رہے ہیں اور عموماً رات میں آسمان میں بادل چھانے کے بدلے تارے نظر آ رہے ہیں۔

ریاست کے واحد راجندر اگریکلچر یونیورسٹی میں ڈائرکٹر ریسرچ ڈاکٹر بی سی چودھری کہتے ہیں کہ پہلے سے ہی مون سون کی بہار آمد میں دیر سے ہوئی اور اب بارش کے بالکل نہ ہونے سے دھان کی فصل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

ڈاکٹر چودھری نے بتایا کہ جن لوگوں کے پاس پمپنگ سٹ تھے یا جن لوگوں نے کرایہ پر آبپاشی کرائی تھی انکے پودے بھی اب زرد پڑ رہے ہیں۔ ویسے بھی پمپنگ سٹ کی مدد سے ریاست کی کل زرعی زمین کے پچیس سے تیس فی صد علاقے میں ہی دھان کی فصل کاشت کی جا سکی ہے۔

محکمہ موسمیات کے ذرائع کے مطابق جولائی کے اخیر تک ریاست میں قریب تین سو ملی میٹر بارش ہوئی ہے جبکہ اس دوران اوسطاً پانچ سے چھ سو ملی میٹر بارش ہونی چاہیے تھی۔

بہار کے بعض علاقوں میں تو دھان کی شجرکاری محض دس فی صد کھیتوں میں ہو پائی ہے۔ نوادہ، سیتامڑھی، دربھنگہ اور نالندہ جیسے اضلاع میں جہاں آبپاشی کا مصنوعی نظام نہیں ہے وہاں بری حالت ہے۔

دوسری جانب نہروں سے آبپاشی کی بہتر سہولت والے اضلاع مثلاً روہتاس، کیمور، سیوان اور گوپال گنج میں دھان کی کاشت ساٹھ سے ستر فی صد ہوئی ہے۔

جن علاقوں میں دھان کی روپنی زیادہ ہوئی ہے وہاں ان پودوں کو بچانا مشکل ہو رہا ہے۔ اسی طرح جن علاقوں میں دھان کے پودے روپنی کے لیے تیار ہیں وہاں کھیت اس قدر سوکھے ہیں کہ روپنی نہیں ہو سکتی۔

ایسے پودوں کی مدت چار ہفتے تک ہونے والی ہے اور اسکے بعد انکی قوت افزائش متاثر ہوتی ہے۔

کسان لیڈر بھولا ناتھ جھا کہتے ہیں کہ دھان کی فصل تو ماری گئی ہے ۔ کھیتوں کے آس پاس کے تالاب اور نہر سوکھے ہوئے ہیں۔ زیر زمین پانی کی سطح پہلے ہی کافی نیچے ہے۔

ریاست میں بجلی کی امید پر کھیتی کی بات تو سوچی بھی نہیں جا سکتی۔ جن کے پاس اپنا پمپنگ سٹ ہے انہیں فی ایکڑ ایک گھنٹے آبپاشی میں پانچ سو روپۓ خرچ ہو جاتے ہیں۔

جو لوگ یہ کام کرایہ پر کراتے ہیں انہیں فی گھنٹے سو روپے دینے پڑ رہے ہیں۔ زمین پہلے ہی سے سوکھی ہے، زیر زمین بارش کی حالت بھی اچھی نہیں۔ اس صورت حال میں آبپاشی کا خرچ اور بڑھ جاتا ہے۔

بھولا ناتھ جھا بتاتے ہیں کہ کھیتی کے علاوہ مچھلی پالنے کا کم بھی بری طرے متاثر ہوا ہے۔ مویشیوں کو چارہ نہیں مل رہا ہے۔

جغرافیہ کے ریٹائرڈ پروفیسر وصی احمد کہتے ہیں کہ بہار میں انیس سو سڑ سٹھ کے سوکھے کے بعد وقفہ وقفہ سے یہ مسئلہ کسانوں کو جھیلنا پڑ رہا ہے مگر اس بار صورت حال کچھ زیادہ سنگین نظر آرہی ہے۔ ہوا کا رخ مغرب سے مشرق کی جانب ہونے کی بجائے مشرق سے مغرب کی طرف ہے۔ ایسے میں مون سون کے بادل آتے تو ہیں ٹھرتے نہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد