ماؤنواز قیدیوں کے لئے عالمی مدد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی جیلوں میں مقید کئی سرکردہ ماؤ نواز انتہا پسند رہنماؤں کی پیروی کے لئے ایک بین الاقوامی کمیٹی تشکیل کی گئی ہے۔ گزشتہ دنوں کمیٹی کے وفد نے ان جیلوں میں ماؤ نواز رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے اس وفد نے بتایا کہ چھ ارکان پر مشتمل ان کا وفد ہندوستان میں قید ان ماؤ نواز رہنماؤں کے تیئں ہندوستان کے رویئے، ان کے حقوق انسانی کی صورت حال کا جائزہ لینے اور ان کو رہائی دلانے کی کوشش کرے گا۔ وفد میں ایک امریکی ایک بیلجن ایک جرمن ، ایک ٹرکش اور دو ہندوستانی شامل ہیں۔ امریکی رکن پیٹر گرانٹ نے بتایا کہ ’ہم یہاں حکومت ہند پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کریں گے کہ وہ مدراس جیل میں قید چندر پرکاش گجریل عرف کامریڈ گورو اور مغربی بنگال کی جلپائی گڑی جیل میں قید موہن ویدیا عرف کامریڈ کرن جلد رہا کرئيں۔‘ انہوں اس بات پر شک و شبہہ ظاہر کیا کہ اگر ہندوستانی حکومت غیر قانونی طریقہ سے ان لوگوں کو نیپالی حکومت کو سونپ دیتی ہے تو انکی جان و مال کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ پیٹر نے بتایا کہ وفد کی مداخلت کے بعد یہ معاملہ عوام کے سامنے آگیا ہے اور اب کچھ غلط کرنے میں ہندوستانی حکومت کو مشکل پیش آئے گی ۔ خاص بات یہ ہے کہ دونوں قیدی نیپالی کمیونسٹ پارٹی (ماؤنواز ) کے پولٹ بیورو کے رکن ہیں۔ ان کا مقدمہ مدراس ہائی کورٹ میں جاری ہے۔ اس معاملے میں گورو کے وکیل اے راہل بتاتے ہیں کہ گور پر ہندوستان میں کوئی جرم کرنے کا الزام درج نہیں ہے لیکن اس کے باوجود انہیں ایک انتہاپسند کے طور پر جیل میں رکھا گیا ہے۔ راہل بتاتے ہیں کا ان دونوں کے علاوہ پٹنہ کی بیور جیل میں نیپالی سیاسی پارٹی کے دو اور رکن قید ہیں ۔ راہل بتاتے ہیں کہ گورو سے ملاقات کرنا آسان نہیں رہا ۔ انہوں نے بتایا کہ انکی شریک حیات اور دو وکلاء کے علاوہ کسی اور سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں ہے اور حال یہ ہے کہ انکے پڑھنے و لکھنے پر بھی پابندی ہے ۔ جرمنی کی سیاسی قیدیوں کی وکیل ہائکے کراؤزے نے اس معاملے پر ردّعمل دیتے ہوئے کہا ’گورو کے ساتھ ایک سیاسی قیدی والا برتاو کرنا چاہئیے ۔ انکے ساتھ ایک انتہا پسند کی طرح برتاو کرنا بالکل غلط ہے ۔ ہم انہیں ایک مجاہدے آزدی مانتے ہیں۔‘ اس معاملے میں نیپال کی حقوق انسانی کی علمبردار کمیٹی کے صدر لکشمن پنت کا کہنا ہے کہ نیپال کے موجودہ حالات کے لئے ماؤنوازں کی جدّوجہد ہی صحیح طریقہ ہے ۔ انہوں نے کہا ’یہ افراد کشمیر کے علحیدگی پسند افراد کی طرح الگ ملک کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ نیپال میں کمیونسٹ نظام کے حق میں ہیں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||