بھارتی پارلیمان میں سکیورٹی الرٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج بھارتی پارلیمان میں مقامی وقت کے مطابق تقریبا پونے بارہ بجے سکیورٹی الرٹ کی وجہ سے لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹے تک افراتفری کا ماحول رہا اور پارلیمان کو پوری طرح خالی کروالیا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پارلیمان کی تلاشی مکمل ہو گئی ہے اور تلاشی کے بعد کہیں سے کچھ بھی نہیں ملا ہے اور خطرے کی بات نہیں ہے۔ پارلیمان کی تلاشی کے بعد وزیر داخلہ شیو راج پاٹل نے بتایا کہ ’پہلے مرحلے کی تلاشی مکمل ہوگئی ہے اور دوپہر بعد تین بجے دونوں ایوانوں کا اجلاس دوبارہ شروع ہوگا۔‘ پاٹل نے مزید بتایا کہ دوسرے مرحلے کی تلاشی جاری ہے اور سیکیورٹی ایجنسیز کے مطابق اب کوئی خوف وخطرے کی بات نہیں ہے۔ اس موقع پر پارلیمان کے باہر بہت سے ارکان جمع تھے۔ ایک رکن پارلمان کا کہنا تھا کہ شاید یہ اسی گروپ کی شرارت تھی جس نے دوہزار ایک میں پارلیمان پر حملہ کیا تھا۔ ’انکا مقصد خوف و ہراس پیدا کرنا ہوسکتا ہے لیکن وہ کامیاب نہیں ہونگے۔‘ نوجوان رکن لوک سبھا سچن پائلٹ نے اس پورے واقعے کو بیان کرتے ہوۓ کہا ’پارلیمان میں سوالات کا سیشن جاری تھا کہ اچانک لوک سبھا سپیکر سومناتھ چٹرجی نے دونوں ایوانوں کو ایک گھنٹے کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ سیکیورٹی کے خطرات کے سبب سبھی ارکان پارلیمنٹ کے باہر ایک میدان میں جمع ہوگۓ۔‘ ایک سوال کے جواب میں سچن پائلٹ کا کہنا تھا کہ ارکان ڈرے بالکل نہیں تھے لیکن چونکہ پارلیمان کا معاملہ ہے اس لیے احتیاط ضروری ہے۔ اطلاعات کے مطابق پارلیمنٹ میں بم ہونے کی خبر ریاست تمل ناڈو سے آئی تھی لیکن اسکے متعلق ابھی تک سرکاری کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ | اسی بارے میں پارلیمان میں سکیورٹی الرٹ16 December, 2005 | انڈیا بھارتی پارلیمان پر حملہ، گیلانی بری04 August, 2005 | انڈیا عدالت نظرِثانی کرے: پولیس اپیل06 September, 2005 | انڈیا موت کی سزا: پولیس درخواست05 September, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||