BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 January, 2006, 09:54 GMT 14:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
موت کے اسباب جاننے کیلیے سروے

اموات
اموات کا سبب جاننے کا جائزہ 16 برسوں پر محیط ہو گا
سب سے بڑا سروے:

بھارت میں موت کے اسباب جاننے کے لیے دنیا کا سب سے بڑا سروے شروع کیا گیا ہے۔ ملک میں ہر برس 95 لاکھ اموات ہوتی ہیں لیکن ان میں سے صرف 35 لاکھ افراد کی موت کا سبب درج ہو پاتا ہے۔

طبی سہولیات کے ناقص ہونے اور ڈاکٹروں تک رسائی نہ ہونے کے سبب 65 لاکھ افراد کی موت کی وجہ درج نہیں ہو پاتی۔

حکومت نے موت کا یہ سروے سینٹر فار گلوبل ہیلتھ ٹورنٹو یونیورسٹی اور انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کی مدد سے شروع کیا ہے-

یہ جائزہ 1998 سے 2014 تک 16 برسوں پر محیط ہو گا۔ اس کے تحت 24 لاکھ گھروں میں تقریبا ڈیڑھ کروڑ افراد کا ریکارڈ درج کیا جائے گا-

اس سروے کا مقصد موت کے اسباب کا پتہ لگانا، آبادی کی صحت کے رحجان کا جائزہ لینا اور طبی پروگراموں کے اثرات کی معلومات حاصل کرنا ہے-

ہوائی اڈوں کی جدید کاری:

مسافروں کی تعداد میں زبردست اضافے کے پیش نظر ہوائی اڈوں کی جدید کاری کی فوری ضرورت ہے لیکن حکومت کی اتحادی بائیں بازو کی جماعتیں جدید کاری کا کام نجی یا غیر ملکی کمپنیوں کو دینے کے خلاف ہیں جس کے سبب یہ کام رکا ہوا ہے۔ پورے ہفتے یہ سسپنس بنا رہا کہ جدید کاری کا کام کسے دیا جائے گا۔

دلی اور ممبئی کے ہوائی اڈوں پر جہازوں کی بھیڑ بڑھ گئی ہے

ممبئی سے 500 اور دلی کے ہوائی اڈے سے 450 ہوائی جہاز روزانہ پرواز کرتے اور اترتے ہیں۔ اس وقت مسافروں کی تعداد دو کروڑ سالانہ ہے جو آئندہ چار برس میں چھ کروڑ ہونے کی امید ہے-

دلی اور ممبئی کے ہوائی اڈوں پر بھیڑ اتنی بڑھ گئی ہے کہ اکثر ہوائی جہازوں کو رن وے خالی نہ ہونے کے سبب 10 سے 30 منٹ تک فضا میں ہی رہنا پڑتا ہے اور ہرمنٹ پانچ ہزار روپے ایندھن پر خرچ ہوتے ہیں-

ائیر پورٹ اتھارٹی نے امریکی ماہرین کی ایک ٹیم دلی بلائی ہے جو ہوائی اڈوں پر بھیڑ کم کرنے کے لیے فضائی راستوں کو ازسرنو ترتیب دے رہی ہے۔

شکریہ غیر مقیم ہندوستانیوں:

اس ہفتے وزیر خزانہ پی چدمبرم نے غیر مقیم ہندوستانیوں کا شکریہ ادا کیا-

دراصل غیر مقیم ہندوستانی غیر ملکی زرمبادلہ کا سب سے معتبر اور ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ غیر مقیم ہندوستانیوں نے پچھلے برس 25 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم وطن بھیجی۔ تین چوتھائی رقم خلیجی ممالک میں رہنے والے ورکرز نے بھیجی۔

عرب ممالک میں 35 لاکھ سے زیادہ ہندوستانی کام کر رہے ہیں اور انہیں ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے کہ ان کے سا تھ سوتیلا برتاؤ کیا جاتا ہے۔

ہندوستان مین غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائرہ 137 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں اور غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی اب بہت آسان ہو گئی ہے۔

شادیوں کا موسم:

جنوری اور فروری میں شگن کے مطابق کچھ ایسی تاریخیں ہیں جس دن اکیلے دلی میں کئی ہزار شادیاں ہونا طے پائی ہیں۔

جنوری اور فروری میں شادیاں زور پر ہیں

پندرہ فروری بھی ایک ایسا ہی دن ہے اور ایک اندازے کے مطابق اس دن 15 ہزار سے زیادہ شادیاں ہوں گی ۔ دارالحکومت کے شہریوں نے دلی کے اطراف میں زرعی زمین خرید کر انہیں ’فارم ہاؤسز‘ میں تبدیل کر دیا ہے۔

گزشتہ کئی برس سے یہ فارم ہاؤسز صرف شادیوں اور دوسرے فنکشن کے لیے ہی استعمال کیے جا رہے تھے۔

میونسپل کارپوریشن نے کافی کوشش کی ان فارم ہاؤسز کا استعمال فنکشن وغیرہ کے لئے نہ ہو لیکن اس میں کوئی کامیابی نہیں مل سکی۔

اب ہائی کورٹ نے میونسپل کارپوریشن کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے فارم ہاؤسز ميں فنکشن وغیرہ پر پابندی نہ لگائی تو وہ اس ادارے کو ہی تحلیل کر دے گا۔

عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ پارکوں اور دوسرے عوامی مقامات پر کسی طرح کی پارٹی اور مذہبی جلسے وغیرہ بھی نہ ہونے چاہیں۔

صدر بش کے لیے مشترکہ اجلاس نہیں:

امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش کا مارچ کے پہلے ہفتے میں ہندوستان کا دورہ متوقع ہے۔

صدر بش کی آمد پر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے

حکومت سابق صدر بل کلنٹن کی طرح صدر بش کے لیے بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کا پروگرام بنا رہی تھی لیکن حکومت کی اتحادی بائيں بازو کی جماعتوں نے اجلاس کے بائیکاٹ کی دھمکی دے ڈالی۔

حکومت نے انہیں راضی کرنے کی کوشش کی لیکن کمیونسٹ بائيکاٹ کے فیصلے سے نہیں ہٹے۔ اب مشترکہ اجلاس کا پروگرام ہی ہٹا دیا گيا ہے ۔

کمیونسٹوں نے صدر بش کی آمد پر کئی طرح کے احتجاجی مظاہروں کا پروگرام بنا رکھا ہے۔

لالو پرساد یادودِلیّ کی ڈائری
لالو کی گائیں، نٹور پریشان، اُما کاغُصّہ
اڈوانیدلی ڈائری
اڈوانی کی مشکل اور امیتابھ کا سوپ اوپرا
لکشمی متلدلی کی ڈائری
بنگالورو، بدعنوان عدلیہ اور بھارتی ارب پتی
ویاگرادلّی کی ڈائری
نیپکن کا بستر، ویاگرا کا مقابلہ اور بالغ فلمیں
انڈیا گیٹدلّی کی ڈائری
غیرمحفوظ دِلی، تاج محل کا ابٹن، کار میں ٹی وی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد