900 افراد کی ہلاکت کاخدشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر میں امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد نو سو سے زائد ہو سکتی ہے۔ بھارتی فوجی، نیوی کے غوطہ خور اور مقامی لوگ ملبے کے نیچے دبی لاشوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ممبئی کے کئی علاقوں میں پینے کی پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جبکہ بجلی اور مواصلاتی نظام کے درہم برہم ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ نامہ نگاروں کے مطابق امدادی کارکنوں کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ وہ کتنی جلدی ملبے کو ہٹا کر زندگی کو معمول پر لانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ محمکہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق آئندہ چند روز میں مہاراشٹر میں مزید شدید بارشیں ہو سکتی ہیں۔ دریں اثناء سنیچر کے روز ممبئی ایئر پورٹ پر مسافروں سے پر ایک طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا ہے۔ بارش کے سبب چھتر پتی شیوا جی ہوائی اڈے کا رن وے پانی سے بھرا ہوا تھا۔ بنگلور سے آيا طیارہ 747 اس پر اتر نے کے بعد رن وے سے پھسل کر کچّی زمین پر چلا گيا۔ بنگلور سے ممبئی اور پھر فرینکفرٹ ہوتے ہوۓ یہ فلائٹ شکاگو جانے والی تھی۔ اس میں تین سو پینتیس مسافر سوار تھے۔ ایئر پورٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ طیارے کے اگلے پہیےرن وے کی لائٹز سے ٹکرائی اور پھر آس پاس کے کیچڑ میں جاکر پھنس گئی تھی۔ انکا کہنا تھا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق سات بجے پیش آیا تھا اور اس وقت تیز بارش ہورہی تھی۔
ایئر پورٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ رن وے تیز بارش کے بعد دو روز کے لیے بند کردیا گیا تھا لیکن اسے جمعہ کے روز دوبارہ کھولا گيا تھا۔ اس حادثے کے بعد اسے پھر بند کردیا گیا ہے۔ کئی طیاروں کی پروازوں میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ بہت سی پروازوں میں تاخیر ہوئی ہے اور کئی کو دوبارہ شیڈول کیا جارہا ہے۔ شدید بارش سے ممبئی سمیت پورے مہاراشٹر میں افرا تفری کا ماحول ہے۔ گرچہ معمول کی زندگی پھر شورع ہوئی ہے لیکن بارش اب بھی ہوتی رہتی ہے۔ اس سے پریشانیاں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ گزشتہ روز امدادی کارروائیوں میں مصروف اداروں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بارش سے ہونے والی تباہی کے بعد، جس میں بہت سے مکانات گر گئے اور مویشی ہلاک ہو گئے، وبائی امراض پھیلانے کا خطرہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ امداد اور بحالیات کی وزارت کے اہلکار کرشنا واٹس کا کہنا ہے کہ مٹی کے تودوں سے متاثر ہونے والے دیہات سے لاشیں نکالے جانے کے ساتھ ہلاک ہونے والوں کی تعداد مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ مٹی کے تودہ گرنے کی وجہ سے چالیس دیہات کا رابطہ ملک بھر سے کٹا ہوا ہے۔ شہر سے تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں اور بدھ کے روز سٹاک مارکیٹ پر ٹریڈنگ بھی نہیں کی گئی۔ حکام کے مطابق منگل کو ہونے والی بارش سب سے زیادہ تھی اور اس نے ایک روز میں سب سے زیادہ بارش کا انڈیا کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ صرف ممبئی میں ہی 65 سینٹی میٹر یعنی 26 انچ سے زیادہ بارش ہوئی۔ بدھ کو ممبئی میں ہونے والی تباہی وزیرِاعلیٰ نے ریاست میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے اور سکول اور دفاتر بند کر دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان بارشوں سے مہاراشٹرا کو اندازاً ایک سو دس ملین ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ ریاست میں زیادہ تر اموات رائے گڑھ اور رتناگری کے اضلاع میں ہوئیں۔ امدادی کارروائیوں کے سربراہ کرشنا وستا نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ’ ہم ابھی تک کچھ علاقوں میں پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں جبکہ درجنوں افراد مٹی کے تودے گرنے سے ہلاک ہو چکے ہیں‘۔
ممبئی میں بھارتی بحریہ کو امدادی کارروائیوں کے لیے طلب کر لیا گیا اور اس کے جوانوں نے شہر کے ریلوے سٹیشنوں، سڑکوں، دفاتر اور ہوائی اڈے پر پھنسے ڈیڑھ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا۔ تیز بارش کے سبب ممبئی ائرپورٹ پر آنے جانے والی تمام مقامی اور بین الاقوامی پروازیں دوسرے دن بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔ رن وے پر پانی کھڑا ہوگیا ہے اور ہوائی اڈے پر کام کرنے والا عملہ بھی کام پر نہیں پہنچا ہے۔ ریل کی پٹڑیاں پوری طرح پانی میں ڈوب جانے کے بعد ممبئی کی لوکل ٹرین سروس بھی بند ہے۔ بارش سے عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ کئی علاقوں میں بجلی فراہم کرنے والی پرائیویٹ کمپنیوں نے بجلی کی سپلائی بند کر دی ہے اور شہر کی ٹیلیفون سروس بھی بارش سے متاثر ہوئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||