آبادی میں بھارت سب سے آگے ہوگا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سن دو ہزار پچاس تک آبادی کے لحاظ سے بھارت چین سے بھی آگے نکل جائے گا مگر کچھ ممالک کی آبادی قریباً چالیس فی صد تک سکڑ جائے گی۔ واشنگٹن میں واقع ’دی پوپولیشن ریفرنس بیورو‘ کے سروے کے مطابق اگلی نصف صدی میں دنیا کی آبادی میں بہت سی تبدیلیاں آئیں گی۔ اس کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار پچاس تک زمین پر لوگوں کی تعداد نو ارب سے بھی بڑھ جائے گی۔ دنیا کی موجودہ آبادی چھ اعشاریہ تین ارب ہے۔ برطانیہ کی آبادی فرانس کی آبادی سے زیادہ ہوجائے گی اور امریکہ کی آبادی میں پچاس فی صد اضافہ ہوگا۔ امریکہ کے علاوہ مغربی ممالک میں عمومی طور پر لوگوں کی تعداد میں کمی آئے گی جب کہ ترقی پزیر ممالک میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ’موجودہ دور میں آبادی میں ننانوے فی صد اضافہ غریب ممالک میں ہوتا ہے‘۔ بھارت میں موجودہ آبادی ایک اعشاریہ آٹھ ارب سے بڑھ کر ایک اعشاریہ تریسٹھ ارب ہو جائے گی جب کہ چین ایک اعشاریہ تین سے بڑھ کر ایک اعشاریہ چوالیس تک پہنچ جائے گی۔ اس طرح آبادی کے لحاظ سے بھارت چین کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ امریکہ تیسری بڑی قوم ہوگا جس کی آبادی دو سو چورانوے ملین سے بڑھ کر چار سو بیس ملین ہوجائے گی۔ برطانیہ انسٹھ اعشاریہ پانچ ملین سے بڑھ کر پینسٹھ ملین پر پہنچ جائے گا۔ تاہم مشرقی یورپ اور روس میں آبادی میں کمی ہونے کی توقع ہے۔ اس سروے میں آبادی کے اندازے مختلف ممالک کی بچوں میں شرح اموات، متوقع عمر، اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت اور مانع حمل کے استعمال سے اخذ کیے گئے ہیں۔ لیکن اس سروے میں ملکوں کے درمیان ہونے والی نقل مکانی کو ذہن میں نہیں رکھا گیا۔ ادارے کے سربراہ کارل ہاب کا کہنا ہے کہ یہ اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کہ مستقبل میں دنیا کس طرح بڑھے گی۔ اسی طرح کی اور تحقیقوں میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ دنیا کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوگا اور زمینی وسائل پر دباؤ انتہائی بڑھ جائے گا۔ اقوام متحدہ کی ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ سن دو ہزار تین سو تک دنیا کی آبادی نو ارب ہو جائے گی۔ مارچ میں امریکہ کے مردم شماری کے ادارے نے کہا تھا کہ دنیا کی آبادی کم ہو رہی ہے اور ایڈز کی وجہ سے افریقہ کی آبادی حقیقت میں کمی آنا شروع ہوجائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||