ہوائی اڈوں کی نج کاری کا مسئلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں ایران کے خلاف ووٹنگ اور ہوائی اڈوں کی جدیدکاری کا معاملہ پورے ہفتے بحث کا موضوع بنا رہا۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے حکومت کو یہ واضح لفظوں ميں بتایا دیا تھا کہ وہ جوہری تنازعے میں ایران کے خلاف ووٹ برداشت نہیں کريں گی۔ اس طرح حکومت کی اتحادی ان جماعتوں نے ہوائی اڈوں کی جدیدکاری نجی کمپنیوں کے ذریعے کرانے کی بھی مخالفت کی۔ ان دونوں ہی معاملوں میں بائیں بازو کی جماعتوں کومنھ کی کھانی پڑی ہے۔ اب یہ جماعتیں امریکہ کے صدر جارج بش کے مارچ کے ممکنہ دورے کے خلاف مہم چلانے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ نادہندہ ارکان پارلیمان: ارکان پارلیمان اور سیاسی رہنما اکثر اپنے بل ادا نہیں کرتے۔ حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ عدالت کو مداخلت کرنی پڑی ہے۔ دلی ہائی کورٹ نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے سکریٹریٹ کوحکم دیا ہے کہ وہ چار ہفتے کے اندر ایسے تمام موجودہ اور سابقہ ارکان پارلیمان کی فہرست پیش کرے جنہوں نے بجلی، ٹیلیفون اور پانی کے بل ادا نہیں کیے ہیں۔
کورٹ نے یہ ہدایت مفاد عامہ کی ایک عذرداری کی سماعت کے دوران دی۔ عدالت نے میونسپلٹی اور ٹیلیفون محکموں کو بھی یہ نوٹس جاری کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ’جب ایک عام شہری بل ادا نہیں کرتا تو آپ اس کی بجلی یا پانی کے کنکشن کاٹ دیتے ہیں۔ آپ اس طرح کے اقدامات بل نہ ادا کرنے والے اراکین پارلیمان کے خلاف کیوں نہیں اٹھاتے؟‘۔ میونسپل کارپوریشن کے مطابق ’نادہندہ ارکان‘ پر بجلی اور پانی کے تقریبًا چھ کروڑ روپے واجب الادا ہیں جبکہ ٹیلی فون محکمے کے تقریبا 14 کروڑ روپے ادا نہیں کیے گئے تھے جس میں سے ساڑھے چھہ کروڑ روپے بڑی مشکل سے وصول کیےگئے۔ بھارت کے زيرانتظام کشمیر میں شورش سے یوں تو زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہوا ہے لیکن لوگوں نے بھی وہاں کی حقیقتوں کی مناسبت سے نئے نئے راستے نکال لیے ہیں۔ فوج اور شدت پسندوں کے درمیان طویل ٹکراؤ کے نتیجے میں وادی میں بیمہ کرانے کے رحجان میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں املاک اور زندگی کا بیمہ کرانے کے رحجان میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک دہائی قبل وادی میں بیمہ کرنے والی صرف چار کمپنیاں تھیں اور سالانہ بزنس تقریبًا ایک کرڑ روپے کا تھا لیکن آج وہاں نو کمپنیاں ہیں اور بزنس سو کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔شورش سے کم از کم بیمہ کمپنیوں کو ضرور فائدہ پہنچا ہے۔ لالواور انگریزی: گزشتہ دنوں پٹنہ میں اردو صحافی غلام سرور کا یوم پیدائش منایا گیا۔ مقررین نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اردو زبان کا دامن نہ چھوڑیں اور اپنے بچوں کو اردو میں ہی تعلیم دیں۔
ایک شخص نے اس مشورے کی شدید مخالفت کی اور وہ تھے لالو پرساد یادو۔ انہوں نے کہا کہ عالمگیریت کے اس دور میں انگریزی سیکھنا لازمی ہے’اگر آپ انگریزی نہیں سیکھیں گے تو آپ اس دور میں ترقی نہیں کر پائیں گے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ممکن ہو تو اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم اسکول میں ہی پڑھائیں۔ لالو نے ایک زمانے میں انگریزی کی سخت مخالفت کی تھی لیکن جب وہ بہار میں اقتدار میں آئے تو انہوں نے انگریزی کو لازمی مضمون قرار دیا۔ آج بہار کے طلبہ بھارت کے کسی بھی مقابلے میں شمال کی دیگر سبھی ریاستوں سے آگے ہیں۔ سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ: ملکی اور بین الاقوامی بازاروں میں سونے کی مانگ میں اضافے کے نتیجے میں سونے کی قیمت میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔
بھارت میں دس گرام سونےکی قیمت آٹھ ہزار دو سو روپے تک پہنچ گئی۔ سونا اس سے پہلے اتنا مہنگا کبھی نہیں ہوا۔ گزشتہ سال دسمبر میں شادیوں کے موسم میں سونے کی قیمت میں تیزی آئی تھی لیکن اس وقت بھی ایک تولہ سونے کی قیمت 8150 روپے تک ہی پہنچ پائی۔ سونے کے ساتھ ساتھ چاندی بھی مہنگی ہوئی ہے اور ایک کلو چاندی کی قیمت چودہ ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ سکرٹ اور پرسنل لا بورڈ : ٹینس سٹار ثانیہ مرزا کے لباس کے بارے ملک کے کئی ٹی وی چینل اور بعض اخبارات ایک عرصے سے تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
کبھی کسی غیر معروف ’عالم‘ سے اس کے بارے میں فتوی مانگا جاتا ہے تو کبھی کسی مذہبی ادارے سے کوئی بیان منسوب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ گزشتہ ہفتے مسلمانوں کے ایک اہم ادارے مسلم پرسنل لا بورڈ نے اصلاح معاشرہ کا ایک پروگرام شروع کیا اور جب بورڈ سے ثانیہ کے لباس کے بارے میں پوچھا گیا تو بورڈ کا کہنا تھا کہ’یہ ہمارے دائرہ کار سے باہر ہے‘۔ بورڈ کے اس بیان سے کئی صحافیوں کو بڑی مایوسی ہوئی ہے۔ |
اسی بارے میں عدلیہ و پارلیمنٹ دلی میونسپلٹی اور بندر22 January, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||