BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 March, 2006, 17:37 GMT 22:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یورینیم افزودگی کی ایرانی دھمکی
ایران کا جوہری معاملہ
’جوہری معاملہ سلامتی کونسل کو بھیجا گیا تو افزودگی شروع کریں گے‘
ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کا جوہری معاملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جایا گیا تو وہ صنعتی پیمانے پر یورینیم کی افزودگی کا آغاز کر دے گا۔

جوہری معاملات پر ایران کے مذاکرات کار علی لاریجانی کا کہنا ہے کہ ’اگر امریکہ اور اس کے اتحادی طاقت کا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ایران اپنا راستہ الگ کر لے گا‘۔

ان کا یہ بیان ویانا میں اقوام ِ متحدہ کے جوہری ادارے ’ آئی اے ای اے‘ کے اجلاس کے ایک دن قبل سامنے آیا ہے۔ اس اجلاس میں ایران پر ادارے کے سربراہ محمد البراعی کی ایک رپورٹ پر غور کیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے سنٹریفیوجز کو یورینیم گیس کی فراہمی شروع کر دی ہے۔ یہ عمل جوہری بم بنانے یا جوہری ری ایکٹروں کو ایندھن کی فراہمی کے عمل کا پہلا قدم ہے۔

علی لاریجانی نے تہران میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ایران کا جوہری معاملہ سلامتی کونسل کو بھیجا گیا تو یورینیم کی افزودگی شروع کر دی جائے گی۔‘

تیل کی قیمتوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا ارادہ نہیں:لاریجانی

انہوں نے کہا کہ ’سلامتی کونسل میں اس معاملے کے جانے کی صورت میں ایران کی تحقیق اور ترقی میں کمی نہیں آئے گی‘۔

علی لاریجانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران تیل کی قیمتوں کو مغرب کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف کوئی بھی کارروائی کی گئی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ضروت متاثر ہوں گی۔

ادھر ایران کے ایٹمی تنازعے پر آئی اے ای اے کے اجلاس کے ایک روز قبل روسی صدر ولادیمیر پوتِن اور انڈیا کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے بھی بات چیت کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی رہنما نے ایران کے ایٹمی تنازعے پر روس کی سفارتی کوششوں کی بھی تعریف کی ہے۔

عالمی امور پر بی بی سی کے نمائندے پال رینالڈز کا کہنا ہے کہ ابھی ایران پر پابندیاں لگنے کا کوئی امکان نہیں اور شاید یہ پابندیاں نہ ہی لگیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے ایران کو تنبیہ کی جائے گی اور اس سے جوہری سرگرمیاں معطل کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ ویٹو پاور رکھنے والے دو ممالک روس اور چین فی الحال ایران پر پابندیاں لگانے کے حق میں نہیں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد