انڈیا،امریکہ کی جوہری شراکت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دورۂ انڈیا کے اختتامی دن امریکی صدر جارج بش انڈیا اور امریکہ کے درمیان نئی ’سٹریٹجک پارٹنر شپ‘ پر اپنا نقطۂ نظر بیان کرنے والے ہیں۔ دہلی میں اپنی تقریر کے دوران امریکی صدر ان اقدار کا ذکر کریں گے جو کہ دونوں ممالک کے اتحاد کا باعث ہیں۔ امریکہ اور انڈیانے جمعرات کو ایٹمی تعاون سے متعلق ایک متنازعہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے بعد انڈیا کو ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہ کرنے کے باوجود امریکی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگئی ہے۔ صدر بش بھارت کے دورے کے بعد جمعہ کی شام کو پاکستان پہنچ رہے ہیں جہاں مذاکرات کا بنیادی موضوع ’دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ ہوگا۔ دریں اثناء عالمی ایٹمی ایجنسی نے امریکہ اور انڈیا کے دمریان ہونے والے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ادارے کے سربراہ محمد البرادعی نے کہا ہے کہ ’ یہ معاہدہ جوہری عدم پھیلاؤ، جوہری دہشتگردی سے مقابلے اور جوہری تحفظ کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا‘۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کو توانائی کے شعبے میں انڈیا کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ تاہم امریکی کانگرس کے کچھ اراکین نے اس معاہدے پر خدشات کا اظہار کیا ہے جس کے تحت امریکہ نے انڈیا سے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کرنے کا مطالبہ واپس لے لیا ہے۔ ان اراکین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ امریکی سینیٹر ایڈ مارکی کا کہنا ہے کہ ’ یہ ایک تاریخی جوہری ناکامی ہے جس میں امریکہ کی حفاظت پر سودے بازی ہوئی ہے‘۔ | اسی بارے میں حیدرآباد دکن میں بش مخالف لہر 01 March, 2006 | انڈیا بش کے دورے کے خلاف مظاہرے02 March, 2006 | انڈیا ہندوستان کی جوہری تنہائی کاخاتمہ02 March, 2006 | انڈیا انڈیا،امریکہ ’تاریخی‘ معاہدہ02 March, 2006 | انڈیا ہندوستان کا جوہری پروگرام 01 March, 2006 | انڈیا ’بش جیسے جنگی مجرم کا استقبال‘01 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||