ہندوستان کی جوہری تنہائی کاخاتمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ سے غیر فوجی جوہری توانائي کے معاہدے کے نفاذ کے ساتھ ہی گزشتہ تیس برس سے جاری ہندوستان کی جوہری علیحدگی ختم ہونے والی ہے۔ اس ہند امریکی معاہدے کو منظوری کے لیے اب امریکی کانگریس میں پیش کیا جائےگا جہاں عدم توسیع کے حامیوں کی کچھ مخالفت کے باوجود اسے منظوری مل جانے کی توقع ہے۔ یہاں سے منظوری مل جانے کے بعدہندوستان نیوکلیائی سپلائر ممالک سے سو ملین جوہری ٹیکنا لوجی اور ایندھن با آسانی حاصل کر سکے گا۔ 1974میں جوہری دھماکے کے بعد ہندوستان کے خلاف پابندیاں عائد کر دی گئیں تھیں۔ نئے معاہدے کے تحت امریکی قانون میں ترمیم کی جائیگی تاکہ ہندوستان کو نیوکلیئر ملکوں کی صفوں میں شامل کیا جاسکے۔ معاہدے کے تحت ہندوستان نے اپنے ری ایکٹرز کو فوجی اور غیر فوجی زمرے میں بانٹ دیا ہے۔ فوجی نوعیت کی تنصیبات کو بین الاقوامی نگرانی سے باہر رکھا جائیگا۔جبکہ غیر فوجی تنصیبات نگرانی میں آجائیں گی۔ ہندوستان میں اس وقت 15 ایٹمی ری ایکٹرز ہیں اور ان میں سے صرف دو ایسے ہیں جو جوہری بم بنانے اور اسی نوعیت کی تحقیق و ترقی کے لیے مخصوص ہیں۔ لیکن باقی گیارہ سویلین ری ایکٹرز میں سےصرف چار ایسی تنصیبات ہیں جو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنے کے دائرے میں ہیں۔ سات ری ایکٹرز تعمیر کے ابتدائی مراحل میں ہیں۔ ایٹمی ری ایکٹرز بجلی پیدا کرنے کے پلانٹ ہیں جو یورنیم سے چلتے ہیں۔ لیکن ان میں کچھ پلانٹ ایسے ہوتے ہیں جو اس عمل میں یورینیم سے ایسا مادہ پیدا کرتے ہیں جو بم بنانے میں استمال ہوتاہے۔ امریکہ کا اصرار ہے کہ سبھی غیر فوجی ری ایکٹرز معائنے میں دیئے جائیں۔ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ہندوستان نے مزید کتنے ری ایکٹرز پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ لیکن ان میں سے بیشتر یقینا سیف گارڈز یا معائنے کے دائرے میں آئیں گے۔ نیو کلائی امور کے ماہر سی راج موہن کا کہنا ہے کہ معائینے میں آجانے سے کوئی نقصان نہیں ہے۔گزشتہ برسوں میں ہندوستان نے علحیدگی میں رہ کر کچھ حاصل نہیں کیا ہے۔’گزشتہ تیس برسوں میں ہندوستان جوہری ری ایکٹروں سے صرف 2600 میگاواٹ بجلی پیدا کر سکا ہے۔ اس معاہدے کے بعد آئندہ چند برسوں میں ہی وہ ایک لاکھ میگا واٹ بجلی پیدا کر سکے گا۔‘ اس معاہدے سے امریکہ کو چین کے مقابل ایک اتحادی مل گیا ہے۔لیکن اسکے علاوہ بھی ایک سبب ہے۔صدر بش کا کہنا تھا کہ وہ کانگریس کو یہ بتائیں گے کہ ’اس سے امریکہ کا اقتصادی مفاد وابستہ ہے۔امریکہ ہندوستان کا سب سے بڑا اقتصادی پارٹنر ہے اور اقتصادی تعلقات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔‘ وزیر اعظم منموہن سنگھ کواس معاہدے پر پارلیمنٹ میں ایک بیان دینا ہے۔ وہ اپنے بیان میں یہ بتائیں گے کہ ہندوستان کی فوجی جوہری قوت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا ہے۔ اگر چہ صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ ہندوستان کے پاس کم از کم پچاس جوہری بم موجود ہیں یا وہ فوری طور پر انہیں بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔انکا کہنا ہے کہ کسی امکانی جوہری حملے کو روکنے کے لیے کم سے کم جتنے جوہری ہتھیار چاہیے ہندوستان نے وہ ہدف حاصل کر لیا ہے۔ اور اب وہ اپنی توجہ غیر فوجی توانائی کے حصول پر مرکوز کررہا ہے۔ | اسی بارے میں جوہری امور پر پاک بھارت اعتماد سازی06 August, 2005 | پاکستان ’این پی ٹی پر سائن نہیں کریں گے‘11 April, 2005 | پاکستان ’فیصلہ امریکہ نہیں ہم کریں گے‘27 February, 2006 | انڈیا ہندوستان کا جوہری پروگرام 01 March, 2006 | انڈیا انڈیا،امریکہ ’تاریخی‘ معاہدہ02 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||