انڈیا،امریکہ ’تاریخی‘ معاہدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور امریکہ نے غیر فوجی جوہری توانائی کے معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ اس معاہدے پر امریکہ کے صدر جارج بش اور وزیر اعظم منموہن سنگھ نے دلی میں بات چیت کے بعد دستخط کیئے۔ دونوں رہنماؤں نے اس معاہدے کو تاریخی قرار دیا ہے۔ بات چیت کے بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے منموہن سنگھ نے کہا کہ معاہدے پر دستخط کے بعد صدر بش اسے امریکی کانگریس کے پاس لے جائيں گے تاکہ امریکی قوانین میں ترمیم کی جا سکے اور جوہری ٹیکنالوجی کے سلسلے میں ہندوستان کی علیحدگی ختم کی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی سے بھی بات چیت کی جا سکے گی تاکہ معاہدے کے تحت ایٹمی تنصیبات کی نگرانی کے معاملے کو حتمی شکل دی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ جن تنصیبات کو بین الاقوامی نگرانی میں دیا جانا ہے انکی شناخت کر لی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ صدر بش کے ساتھ بات چیت سے وہ کافی مطمئن ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کی شراکت کی اب کوئی حد نہیں ہے۔
صدر بش نے اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ معاہدہ وزیر اعظم کے لیئے بھی مشکل ہے اور امریکی صدر کے لیئے بھی کافی مشکل رہا ہے۔ صدر بش نے دونوں ملکوں کے بڑھتے ہوئے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’دونوں جمہوریتیں تمام مذاہب اور قوانین کی بالادستی کا احترام کرتی ہیں اور ہم تجارت اور تعلقات کے ذریعے اقتصادی ترقی کے راستے تلاش کرتے ہیں‘۔ صدر بش نے مزید کہا کہ امریکہ پوری دنیا میں جمہوریت کے فروغ کے لیئے کوشاں ہے اور افغانستان جیسے نئے جمہوری ملکوں کی مدد جاری رکھے گا۔ دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ اور ہندوستان دونوں ہی اپنی سر زمین پر دہشتگردوں کے حملوں کا سامنا کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’دونوں ممالک ایک محفوظ اور پر امن فضا کے قیام کے لیئے ایک دوسرے کے ساتھ اشتراک کر رہے ہیں‘۔ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے صدر بش نے کہا ہندوستان اور پاکستان کے پاس پائیدار امن کے قیام کے لیئے ایک بہترین موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’وزير اعظم منموہن سنگھ اور صدر مشرف جرات مند اور دانشمند رہنما ہیں اور میں ان پر یہی زور دے رہا ہوں کہ وہ کشمیر سمیت ہر مسئلے کو حل کرنے کے لیئے پیشرفت جاری رکھیں‘۔ |
اسی بارے میں بش کے استقبال اور احتجاج کی تیاریاں28 February, 2006 | انڈیا ’فیصلہ امریکہ نہیں ہم کریں گے‘27 February, 2006 | انڈیا بش ریلی، مادھوری، امرسنگھ اور جسیکا26 February, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||