حیدرآباد دکن میں بش مخالف لہر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر جارج بش جمعہ کے روز چند گھنٹوں کے دورے پر حیدرآباد دکن پہنچ رہے ہیں- کہنے کو تو یہ دورہ مختصر ہے لیکن اِس نے مخالفت کا ایک ایسا ظوفان کھڑا کردیا ہے جو اس سے قبل کسی صدر مملکت یا سربراہ حکومت کے خلاف دیکھنے میں نہیں آیا تھا- دائیں سے لے کر بائیں تک، مسلمانوں کی سیاسی مذہبی سماجی تنظیموں حزب اختلاف کی اصل جماعت تلگو دیشم کمیونسٹ پارٹیوں غیرسرکاری تنظیموں اِنسانی حقوق اور خواتین کے گروپوں ہر ایک نے اِس دورے کی مخالفت میں آواز بلند کی ہے- اُن کا کہنا ہے کہ بش نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے نام پر پوری دنیا میں دہشت پھیلائی ہے- گزشتھ ایک ہفتے کے دوران کوئی دن ایسا نہیں گزرا ہے جبکھ جارج بش اور امریکہ کے خلاف مظاہرے نہ ہوئے ہوں یا احتجاجیوں نے اُن کے پتلے نذر آتش نہ کیئے ہوں- ایک جانب چالیس غیر سرکاری تنظیموں اور گروپوں اور جماعت اسلامی پر مشتمل ایک فورم نے فرضی عدالت میں جارج بش کے خلاف مقدمہ چلایا اور اُنہیں جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی پامالی کا ذمہ دار قرار دیا تو دوسری جانب بائیں بازو کی جماعتوں سی پی آیی اور سی پی ایم نے ’بش واپس جاو‘ کے نعرے کے ساتھ دستخظی مہم چلائی اور بش کا ایک فرضی جلوس جنازہ بھی نکال دیا- جماعت اسلامی کی ظلبا تنظیم سٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن نے اِس احتجاج کو ایک نیا رخ دیتے ہوئے ایک ایسی نمائش کا اہتمام کیا جس میں افغانستان اور عراق پر امریکی حملے کے نتیجے میں ہونے والی ہزارھا ہلاکتوں اور بربادی کی منہ بولتی تصویریں ذرائع ابلاغ کی رپورٹیں کارٹونز اور امریکھ کی پالیسیوں کا احوال پیش کیا گیا ہے- حیدرآباد کی بارسوخ مسلم سیاسی جماعت مجلس اتحاد المسلمین، جماعت اسلامی، تعمیر ملت اور دوسری کئی تنظیموں پر مشتمل مشترکہ مجلس عمل نے جارج بش کے دورے کے روز یعنی جمعہ کو ہڑتال کی اپیل کی ہے- قرائن سے صاف ظاہر ہے کھ حیدرآباد میں بش کا اِستقبال ہڑتال احتجاجی ریالیوں اور جلسوں کے درمیان ہوگا- سب سے زیادہ حیرت ناک مخالفت اپوزیشن تلگو دیشم پارٹی کی جانب سے ہوئی ہے- تلگودیشم کے صدر و سابق وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ اُن کی پارٹی جارج بش کے دورے کی مخالف ہے کیونکھ اُن کی پالیسیاں عالمی امن کے لیئے اور بالخصوص ہندوستان کے لیئے ایک بڑا خظرہ ہیں- نائیڈو کا کہنا ہے کہ بش ہندوستان پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف امریکہ کا ساتھ دے اور یہ بات ہندوستان کے مفاد کے خلاف ہے- نائیڈو نے اِس بات پر بھی تشویش کا اِظہار کیا کہ جارج بش اِسلامی ممالک کے دشمن بن کر سامنے آ رہے ہیں اور اُنہوں نے مذہبی عدم رواداری اور نفرت کو فروغ دیا ہے- مخالفت کرنے والی دوسری جماعتوں نے بھی کہا ہے کھ بش ایک قابل خیرمقدم شخصیت نہیں ہیں کیونکہ وہ امریکی سامراجیت اور اِسلام و مسلم دشمنی کی علامت بن گئے ہیں- مشترکہ مجلس عمل کے ترجمان مولانا عبدالرحیم قریشی نے کہا کہ افغانستان اور عراق میں امریکہ نے جو انسانیت سوز جرائم کیئے ہیں اُس کے بعد بش کی مخالفت کرنا ہر مسلمان کا فرض بن جاتا ہے- جماعت اِسلامی کے ریاستی امیر سید عبدالباسظ انور نے کہا کہ امریکہ خود ہندوستان کے لیئے خظرہ ہے کیونکہ وہ اِس علاقے میں اپنی برتری قائم کرنے کے لیئے ہندوستان کو دبانا چاہتا ہے- بش کی مخالفت میں مسلمان شیعہ سنی اور دوسرے مسلکی اختلافات چھوڑ کر ایک ہوگئے ہیں- سنی علماء بورڈ اور دوسری تنظیموں نے کہا ہے کہ وہ بش کے دورے کے دن لاحول ولا قوہ کا وِرد کروائیں گے جس سے شیظان بھاگتا ہے- دوسری جانب شیعہ تنظیمیں بھی شدت کے ساتھہ بش کی مخالفت کررہی ہیں کیونکھ اُن کا اِلزام ہے کھ سامرہ میں روضہ عسکرین پر حملے میں امریکھ کا ہاتھہ ہے- شدید مخالفت اور احتجاج کی اِس لہر نے حکومت اور مبصرین کو چونکا دیا ہے۔ عموماً حیدرآباد دکن جیسے شہر میں دنیا کی واحد سوپر پاور کی آمد پر خوشی کی اُمید کی جاتی ہے درحقیقت اِس سے قبل مارچ سنہ دو ہزار میں بِل کلنٹن کے دورے کے وقت بڑا خوشگوار ماحول دیکھنے میں آیا تھا- لیکن اب کی بار معاملہ بالکل برعکس ہے- اس مخالفت کے نتیجھ میں بش کے دورے کی تفصیلات کو ابھی بھی پس پردہ رکھا گیا ہے- حیدرآباد میں چار پانچ گھنٹے کے قیام کے دوران بش آچاریہ این جی رنگا زرعی یونیورسٹی اور انڈین اِسکول آف بزنس کا دورہ کریں گے- سیکوریٹی کی سختی کا عالم یہ ہے کھ بش کے خصوصی ظیارے اِیرفورس ون کو لڑاکا ظیاروں کے گھیرے میں لایا جائے گا اور اِس فضائی بیڑے میں ایر فورس ون سے ملتا جلتا ایک اور ظیارہ ہوگا تاکہ ممکنہ حملہ آور کو معلوم نھ ہوسکے کہ بش کس ظیارہ میں ہیں- بش کی شریک حیات لارا کی مصروفیات پر بھی سیکوریٹی خظرات کا سایہ پڑا ہے- پہلے اُنہیں حیدرآباد کے تاریخی علاقے میں چارمینار اور نظام حیدرآباد کے محلات کی سیر کرانے کی تجویز بھی شامل تھی لیکن مسلم تنظیموں کی ہڑتال کی اپیل کے بعد اُسے بدل دیا گیا اِسی طرح وہ اب کوٹھی ویمنس کالج بھی نہیں جائیں گی- اب تک تحریر صرف اِتنا معلوم ہے کھ وہ ایڈز کا شکار بچوں کے ایک مرکز کا دورہ کریں گی- جہاں ریاستی حکومت احتجاجوں سے پریشان ہے وہیں اُسے اِس بات کی خوشی ہے کہ امریکہ کے صدر کی آمد سے بین الاقوامی سطح پر حیدرآباد کی اہمیت اُجاگر ہوگی- عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بش کے پروگرام میں نئی دہلی کے علاوہ صرف حیدرآباد اِس لیئے شامل کیا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں یہ شہر اِنفارمیشن ٹکنالوجی اور بائیو ٹکنالوجی کے اہم بین الاقوامی مرکز کے طور پر اُبھرا ہے اور امریکی کمپنیوں کو اِن دونوں ہی شعبوں میں گہری دلچسپی ہے- حیدرآباد واحد شہر ہے جہاں امریکہ کے بعد مائیکرو سافٹ کمپنی کا سب سے بڑا مرکز واقع ہے۔ اُس کے علاوہ امریکہ میں فروخت ہونے والی دواوں کا معیار جانچنے والے اِدارے فارماکوپیا کا امریکہ کے بعد واحد مرکز حیدرآباد میں ہے- اِس سے امریکہ کے لیئے اِس شہر کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے- حیدرآباد کا رخ کرنے والی امریکی کمپنیوں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جارھی ہے- اِس تناظر میں جارج بش کے دورہ حیدرآباد کا مقصد کیا ہے؟ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ اِن تجارتی تعلقات کو مزید مضبوظ بنانا چاہتے ہیں- ریاست کے وزیر اعلی راج شیکھر ریڈی جارج بش سے درخواست کریں گے کہ وہ کسانوں اور زراعت کی حالت بھتر بنانے کے لیے امریکہ کی عصری ٹکنالوجی آندھرا پردیش کو فراہم کریں- چاہے صدر بش تجارتی اور پیشہ وارانہ تعلقات کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں اور ریاستی حکومت کو زرعی ٹکنالوجی مل پاتی ہے یا نہیں۔ بش کے اِس دورے کو عوامی مخالفت کے لیئے ضرور یاد رکھا جائے گا- اور دنیا کو یہ پیغام ضرور ملے گا کہ بش نے امریکہ کو کتنا نقصان پہنچایا ہے اور وہ خود کس قدر ناپسندیدہ بن گئے ہیں- |
اسی بارے میں بش کی آمد، احتجاج نہ کرنے کا فیصلہ01 March, 2006 | پاکستان زبردست مظاہرے، بش دلی پہنچ گئے01 March, 2006 | آس پاس بش کے استقبال اور احتجاج کی تیاریاں28 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||