زبردست مظاہرے: بش دلی میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں چند گھنٹے گزارنے کے بعد امریکی صدر جارج بش تین روزہ دورے پر دلی پہنچ گئے ہیں۔ صدر بش کی انڈیا آمد پر وہاں زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ ان مظاہروں کا اہتمام کئی تنظیموں نے مل کر کیا تھا۔ تین روزہ دورے میں وہ ہندوستان کی قیادت سے اقتصادی اور تجارتی معاہدوں کے ساتھ ساتھ ایک جوہری معاہدے پر بھی بات چیت کریں گے۔ صدر جارج بش کے ساتھ اعلیٰ اہلکاروں کا ایک وفد بھی ہندوستان آ یا۔ اس وفد میں وزير خارجہ کونڈولیزا رائس اور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر سٹیو ہیڈلی سمیت امریکی انتظامیہ کے متعدد اعلیٰ اہلکار شامل ہیں۔ اپنے قیام کے دوران وہ ہندوستان کے صدر اور وزیر اعظم سمیت اعلیٰ رہنماؤں اور صنعتکاروں سے ملاقات کریں گے۔ شیام سرن نے مزید بتایا کہ صدر بش وزير اعظم سے ملاقات کے دوران کئی اقتصادی اور تجارتی معاملات پر بات چیت کريں گے۔ اس سے قبل امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے جو انڈیا کے دورے سے پہلے بدھ کو اچانک افغانستان پہنچے تھے،اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اسامہ بن لادن کو انصاف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کابل میں افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ ایک مشترکہ اخباری کانفرنس میں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ افغان عوام کا جمہوریت کی جڑیں مضبوط کرنے کا عزم دنیا کےدیگر ممالک کے لوگوں کے لیئے تحریک کا باعث ہے۔
جارج بش نے بالخصوص افغانستان کی طرف سے لڑکیوں کے سکول قائم کرنے کی مہم کی تعریف کی۔ صدر بش کے ساتھ سفر کرنے والے بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے افغانستان دورے کا مقصد حامد کرزئی کو اخلاقی مدد فراہم کرنا ہے۔ صدر بش افغانستان میں موجود بیس ہزار امریکی فوجیوں سے بھی خطاب کریں گے۔ یہ خطاب بگرام کے ہوائی اڈے پر ہوگا۔ اس سے قبل صدر بش کا خصوصی طیارہ بٹگرام کے ہوائی اڈے پر اترا جہاں افغان صدر حامد کرزئی نے ان کا استقبال کیا۔ بٹگرام کے ہوائی اڈے سے امریکی صدر کو کابل کے صدارتی محل لیے جایا گیا۔ صدر بش اور افغان صدر کے درمیان کابل کے صدراتی محل میں مذاکرات ہوئے۔ طالبان کی حکومت ختم ہونے کے بعد بش پہلے مرتبہ کابل گئے ہیں۔ ان کے کابل کے دورے کا پہلے سے اعلان نہیں کیا گیا تھا۔
امریکی حکام نے صدر بش کے دورۂ کابل کے بارے میں پہلے سے کچھ نہیں بتایا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق امریکی حکام سکیورٹی کی وجوہات کی بنا پر صدر بش کے دورۂ کابل کے بارے میں خاموش تھے۔ | اسی بارے میں ’بش کے دورے سےکوئی تعلق نہیں‘01 March, 2006 | پاکستان ’اسامہ کو پکڑنا ہماری ترجیح ہے‘28 February, 2006 | پاکستان ’امریکہ توانائی کی ضروریات سمجھے‘28 February, 2006 | پاکستان ’بات چیت کا محور مسئلہ کشمیر ہوگا‘28 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||