’بات چیت کا محور مسئلہ کشمیر ہوگا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش سے ہونے والی ملاقات میں بات چیت کا محور تو مسئلہ کشمیر ہوگا لیکن ان کے دورے سے مسئلہ کشمیر پر ’بریک تھرو‘ نہیں ہوگا۔ بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں صدر جنرل مشرف نے کہا ’ کشمیر پر بریک تھرو اس وقت ہوگا جب پاکستان اور بھارت میز پر بیٹھ کر حل کی بات کریں گے۔ میں یہ توقع کرتا ہوں کہ امریکی صدر فریقین پر دباؤ ڈالیں گے کہ مسئلہ حل کریں، کیونکہ ابھی یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے ’آئیڈیل‘ ماحول اور وقت ہے‘۔ واضح رہے کہ امریکی صدر نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا حل ایسا ہونا چاہیے جو ہندوستان، پاکستان اور کشمیریوں کے لیے قابل قبول ہو۔ انٹرویو میں صدر جنرل پرویز مشرف نے دعویٰ کیا کہ انہیں توقع ہے کہ فوجی وردی اتارنے کے بارے میں امریکی صدر ان پر کوئی دباؤ نہیں ڈالیں گے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے اس تاثر سے تو اتفاق کیا کہ تاحال پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ سطح پر ہونے والی بات چیت میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ٹھوس پیش رفت نہیں ہوسکی۔ لیکن اس کے باوجود بھی ان کا کہنا ہے کہ معاملات دوطرفہ سطح پر ہی آگے بڑھانے ہوں گے۔ صدر جارج ڈبلیو بش رواں ہفتے کے آخر میں بھارت سے ہوتے ہوئے دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ امریکی صدر دوسری بار صدر منتخب ہوئے ہیں لیکن اس خطے کا پہلی بار دورہ کر رہے ہیں۔ جب صدر جنرل پرویز مشرف سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات میں کون سے تین انتہائی اہمیت کے حامل معاملات پر بات کریں گے؟ تو صدر مملکت نے اپنی ترتیبوار ترجیحات میں مسئلہ کشمیر، دہشت گردی اور امریکی منڈی تک پاکستان کی رسد کے موضوعات کو اہم نکات قرار دیا۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’سب سے پہلے تو میں بات کروں گا کشمیر۔ کیونکہ یہ ہمارے اعتبار سے سب سے اہم ہے۔ کشمیر معاملے پر وہ ( صدر بش) اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں تاکہ بھارت، پاکستان اور کشمیری بیٹھ کر اس کو حل کریں۔ دوسرا معاملہ جو میں اٹھانا چاہوں گا وہ دہشت گردی ہے۔ اس بارے میں کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں، جو میری نظر میں افغانستان کی قیادت بہت زیادہ الجھن پیدا کرتی ہے۔ اس کو میں ختم کرنا چاہتا ہوں اور امریکی منڈی تک رسائی پر بات کریں گے‘۔ پیغمبر اسلام کے متعلق یورپی اخبارات میں خاکوں کی اشاعت کے خلاف ہونے والے احتجاج کے بارے میں صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ ’اس معاملے پر جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس پر پاکستانی عوام کی اکثریت ان کے ساتھ ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلتے، جو نہیں ہورہا۔ پندرہ کروڑ کی آبادی کے ملک میں اگر چند ہزار لوگ سڑکوں پر آئیں تو اسے پاکستانی عوام کا ’ریسپانس، نہیں کہا جاسکتا۔ اس سے غلط تاثر نہ لیا جائے۔ ابھی جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں اس میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو ناموس رسالت کے لیے احتجاج کر رہے ہیں اور کچھ لوگ سیاسی عزائم رکھتے ہیں۔ انہیں علیحدہ علیحدہ کر کے دیکھنا ہوگا۔ ہم اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کر رہے ہیں اور ہم جانتے ہیں یہ کون لوگ ہیں،۔
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ ’جو لوگ حقیقی طور پر ناموس رسالت کے لیے احتجاج کرتے ہیں، اس کے لیے ہم بھی بڑے پیمانے پر اقدامات کر رہے ہیں۔ ہم نے اقوام متحدہ اور اسلامی ممالک کی تنظیم میں یہ معاملہ اٹھایا ہے۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اقوام متحدہ کی سطح پر قانون سازی ہونی چاہیے کسی بھی پیغمبر کی توہیں پر پابندی ہونی چاہیے۔ میں کہتا ہوں کہ یورپ میں جو لوگ اس بارے میں اظہار رائے کی آزادی کی بات کرتے ہیں، پھر ’ہولو کاسٹ، کے بارے میں بحث پر پابندی کیوں ہے؟ دوہرہ معیار نہیں اپنانا چاہیے اور باالخصوص جہاں مسلمانوں کی حساسیت کا معاملہ ہو وہاں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ پھر مسلمان سمجھتے ہیں کہ اسلام اور انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے۔ دنیا کی قیادت کو یہ سمجھ لینا چاہیے اور وہ ضرور سمجھیں‘۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ’حزب اختلاف کی جانب سے میرے مستعفی ہونے کا مطالبہ فضول ہے کیونکہ پاکستانی عوام ایسا نہیں چاہتے۔ میرے استعفے کا ناموس رسالت سے کیا تعلق ہے؟‘۔ دولت مشترکہ اور دیگر عالمی تنظیموں کی جانب سے پاکستان میں جمہوریت اور صدر کے ساتھ آرمی چیف کا عہدہ رکھنے کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ’سب سے پہلے تو میں مغرب سے کہتا ہوں کہ وہ جمہوریت کی وصف بیان کریں کہ جمہوریت ہے کیا؟۔ میں سمجھتا ہوں جمہوریت اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی اور عوام کی رائے کے احترام اور ان کے منتخب نمائندوں کی حکمرانی کا نام ہے۔ گزشتہ چھ برس میں جو کچھ میں نے کیا وہ ہی جمہوریت کی روح ہے۔ جو کچھ مغرب والے دیکھ رہے ہیں وہ جمہوریت کا لیبل یعنی لبادہ ہے‘۔ ’مجھے پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے منتخب نمائندوں نے صدر چنا ہے۔ صدر اور آرمی چیف کے دونوں عہدے رکھنے کے لیے پارلیمان کی دو تہائی اکثریت جس میں یہ مذہبی جماعتیں بھی شامل ہیں انہوں نے ووٹ دیا ہے۔ کیا یہ جمہوریت نہیں؟ یہ برطانیا یا امریکہ نہیں بلکہ پاکستان ہے۔ اس ملک کی ترقی اور استحکام میں فوج کا بڑا کردار ہے۔ دولت مشترکہ والے پہلے جمہوریت کی تشریح کریں اور پھر تمام رکن ممالک میں جائزہ لیں کہ کہاں پر کیسی جمہوریت ہے۔ ہوسکتا ہے ہم ایک آدھ معاملے میں خلاف ورزی کرتے ہوں لیکن دوسرے ممالک کئی معاملات میں خلاف ورزیاں کرتے پائے جائیں گے‘۔ صدر پرویز مشرف نے کہا کہ جمہوریت اور فوجی وردی کے بارے میں صدر بش کی جانب سے دباؤ ڈالنے کی وہ توقع نہیں کرتے۔ ’وہ ( صدر بش) یہ کہتے ہیں کہ جمہوریت کو مضبوط کرنا چاہیے۔ میں بھی ایسا کہتا ہوں۔ جہاں تک کہتے ہیں کہ فوجی وردی جمہوریت کا مسئلہ ہے، ٹھیک ہے مسئلہ ہے۔ مگر فوجی وردی کی منظوری پارلیمان نے دو تہائی اکثریت سے دی ہے۔ پھر ہم کس جمہوریت کی بات کرتے ہیں؟‘۔ ’میں سمجھتا ہوں کہ سب سے بڑا پیمانہ عوام ہیں اور وہ میرے ساتھ ہیں۔ ان چند ہزار افراد جو سڑکوں پر آتے ہیں ان سے گمراہ نہ ہوں۔ عوام کی اکثریت ساتھ نہ ہوتی تو میں عہدہ چھوڑ دیتا۔ عوام اگر اس کے خلاف ہوتے تو وہ سڑکوں پر آجاتے۔ آپ پاکستان میں آمروں کی تاریخ دیکھیں انہیں عوام نے جب چاہا تو ہٹا دیا۔ آپ عوام کے مقبول سمجھے جانے والے لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کو دیکھیں اور انہیں بھی عوام نے اٹھا کر باہر پھینک دیا‘۔ |
اسی بارے میں ’اسامہ کو پکڑنا ہماری ترجیح ہے‘28 February, 2006 | پاکستان کشمیر:’امریکہ مدد کرے‘13 February, 2006 | پاکستان ’تہذیبوں کے تصادم کو ہوا ملے گی‘03 February, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||