BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 February, 2006, 10:01 GMT 15:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’توانائی کی ضرورت ہے‘
جہانگیر کرامت
امریکی صدر کا دورہ بہت اہمیت کا حامل ہے:جہانگیر کرامت
امریکہ میں پاکستان کے سفیر جنرل(ر) جہانگیر کرامت نے کہا ہے کہ امریکی صدر جارج بش کا دورہ جنوبی ایشیا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

بی بی سی کے نمائندے ثقلین امام کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ خطے میں پاکستان، بھارت اور افغانستان کے لیئے الگ الگ پالیسی رکھتا ہے اور اس دورے سے پاکستان کی اہمیت واضع ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شروع ہونے والے پاکستان امریکہ تعلقات کے نئے موڑ میں اب کئی جہتوں کا اضافہ ہو چکا ہے جن میں دفاع، تجارت، معیشت اور سائنس و ٹیکنالوجی شامل ہیں۔

بھارت اور امریکہ کے مابین ہونے والے جوہری تعاون کے مجوزہ معاہدے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی امریکہ سے اس قسم کے توانائی کے مذاکرات کا خواہشمند ہے اور اس کے لیئے بات چیت کا آغاز کرنا چاہتا ہے تاکہ جب پاکستان ان کے معیار پر پورا اترے تو اس سلسلے میں پیش رفت ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے جوہری عدم پھیلاؤ کے مسئلے پر امریکہ ہمارے اقدامات اور قانون سازی سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور اس سلسلے میں امریکہ ہم سے تعاون کر رہا ہے۔ اب پاکستان عدم پھیلاؤ کے جس راستے پر چل رہا ہے امریکہ کی جانب سے ان کے تسلیم کیئے جانے کی ضرورت ہے۔

اس سوال پر کہ کیا امریکہ کے پاکستان کی دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں کے اقتدار میں آنے اور جوہری ہتھیاروں کے شدت پسندوں کے ہاتھ لگ جانے کے بارے میں تحفظات ہیں، جنرل(ر) جہانگیر کرامت نے کہا کہ امریکہ کو معلوم ہے کہ پاکستان کی دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں اور شدت پسندوں میں بہت فرق ہے۔

ایران، پاکستان، بھارت گیس پائپ لائن کے بارے میں امریکی دباؤ کے سوال پر انہوں نے کہا کہ امریکہ اس کی حوصلہ شکنی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے تاہم پاکستان اور بھارت کو اپنی ملکی ضروریات اور متبادل ذرائع کی موجودگی کو ذہن میں رکھ کر اس بات کا حتمی فیصلہ خود کرنا ہو گا۔

صدر بش کے دورے میں پاکستان کے لیئے تجارتی مراعات اور امریکی منڈیوں تک رسائی کے امکانات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اس بات کی کوشش میں ہے اور انہیں توقع ہے کہ دورے کے بعد ایسے اقدامات ہوں گے جن سے پاکستان کو فائدہ ہو گا۔

کشمیر کے مسئلے پر جہانگیر کرامت نے کہا کہ امریکہ دو طرفہ مذاکرات کا حامی ہے۔ لیکن چونکہ اسے دونوں ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کے باعث ایک خصوصی اہمیت حاصل ہے اس لیئے وہ اپنے اثر و رسوخ کو مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیئے استعمال کر سکتا ہے۔ تاہم کسی نتیجے کی طرف جانا دونوں ممالک کا دو طرفہ معاملہ ہو گا۔ اس ضمن میں انہوں نے واضع کیا کہ کشمیر کے کسی نئے نقشے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔

اس سوال پر کہ صدر بش کے دورے کے موقعے پر پیغمبر اسلام کے بارے میں شائع ہونے والے خاکوں کے خلاف احتجاج جو کہ صدر بش کے خلاف احتجاج میں تبدیل ہو رہا ہے، ان کے دورے پر کس حد تک اثر انداز ہو سکتا ہے؟ جہانگیر کرامت نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ کا کردار اس ضمن میں بہت اچھا رہا ہے اور دونوں ملکوں میں نہ صرف خاکے نہیں چھاپنے دیے گئے بلکہ امریکہ نے آزادی اظہار کے ساتھ ذمہ داری کے احساس پر بھی زور دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس احتجاج کو اس سمت میں نہیں لے جانا چاہیئے۔ یہ پاکستان کے فائدے کی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے کے لیئے پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے بہت محنت ہوئی ہے اور اس کی پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے حوالے سے بہت اہمیت ہے۔

اسی بارے میں
مسئلہ کشمیر کا حل ممکن ہے:بش
27 February, 2006 | پاکستان
’بش مشرف پر دباؤ ڈالیں‘
25 February, 2006 | پاکستان
کشمیر:’امریکہ مدد کرے‘
13 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد