BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 February, 2006, 11:02 GMT 16:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسئلہ کشمیر کا حل ممکن ہے:بش

صدر بش
صدر بش یکم مارچ سے جنونی ایشیا کا دورہ شروع کرنے والے ہیں۔
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرینہ مسئلہ کشمیر کا دائمی حل ممکن ہے اور وہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کو ترغیب دے رہے ہیں کہ اس مسئلے کا ایسا حل نکالا جائے جو تمام فریقین کو قابل قبول ہو۔

امریکی صدر بش جو اس ہفتے بھارت اور پاکستان کا دورہ کر نے والے ہیں نے اپنے دورے سے قبل پاکستان کے سرکاری ٹیلی وژن پی ٹی وی کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ٹھوس پیشرفت کی ضرورت ہے۔

جارج بش کے مطابق امریکہ کی پاکستان سے دوستی صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ تک محدود نہیں ہے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے تو انھوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے صدر اور بھارت کے وزیر اعظم کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اور انھیں پوری امید ہے کہ اس مسئلے کا دائمی حل نکل سکتا ہے۔

امریکی صدر نے پی ٹی وی کو بتایا کہ جب وہ پہلی دفعہ امریکی صدر بنے تھے تو پاکستان اور بھارت کے درمیان سخت کشیدگی کا ماحول تھا تاہم ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اب ذرائع آمدو رفت اور تجارت کی نئی راہیں کھلی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ جنوبی ایشیاء کے دورے میں دونوں ممالک کے رہنماؤں پر ایک دفعہ پھر زور دیں گے کہ اس مسئلے پر بات چیت اس عزم کے ساتھ جاری رکھیں کہ یہ مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔

پاک امریکہ تعلقات کے بارے میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی عوام کو بتانا چاہتے ہیں کہ امریکہ عوام ان کے خیر خواہ ہیں اور جب امریکی چنوک ہیلی کاپٹرز پاکستان کے زلزلہ زدہ علاقوں میں امداد لے کر گئے تو اس میں کوئی ڈپلومیسی نہیں تھی بلکہ امریکی عوام کی جانب سے ایک پیغام تھا کہ امریکی عوام پاکستانیوں کا خیال کرتے ہیں اور ان کے بارے میں فکر مند تھے۔

صدر بش نے پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر مشرف ان کے ساتھ دونوں ملکوں کے مابین مشرکہ سرمایہ کاری کے معاہدے اورطلبا کے وفود کے تبادلے پر بات کریں گے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ صدر مشرف سے پاکستان میں جمہوریت پر بھی بات کریں گے۔انہوں نے اس انٹرویو میں پاکستانی نژاد امریکیوں کی بھی تعریف کی ۔

اسی بارے میں
’بش مشرف پر دباؤ ڈالیں‘
25 February, 2006 | پاکستان
کشمیر:’امریکہ مدد کرے‘
13 February, 2006 | پاکستان
صدر بش کی عجیب پالیسی
03 December, 2005 | پاکستان
بش کی مشرف، منموہن سے ملاقات
14 September, 2005 | پاکستان
صدر مشرف کو صدر بش کا فون
17 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد