BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 March, 2006, 11:06 GMT 16:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بش جیسے جنگی مجرم کا استقبال‘

ارن دھتی
بش کی ہندوستان آمد کے خلاف ارن دھتی رائے نے کئی تنظیموں کے ساتھ مل کر احتجاج شروع کر دیا ہے
بین الاقوامی شہرت یافتہ مصنف اور کارکن ارون دھتی رائے کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں جس طرح کا غیر محفوظ ماحول پیدا ہو رہا ہے اس کے نتائج کافی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش کے ہندوستان دورے پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر بش کی آمد سے سماج کا امیر طبقہ ہی فیض یاب ہو گا۔

بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں ارن دھتی رائے کا کہنا تھا کہ یہ بے حد افسوسناک بات ہے کہ بش جیسے ’جنگی مجرم‘ کا ہندوستان میں استقبال کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق دنیا میں صرف دو ہی ملک صدر بش کا استقبال کر رہے ہیں، ایک اسرائیل اور دوسرا ہندوستان۔

صدر بش ہندوستان دورے میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کی سمادھی پر بھی جائيں گے۔ ارن دھتی کا خیال ہے کہ ’صدر بش کا وہاں جانا اور وہاں پھول چڑھانا ایسا ہی ہوگا جیسے ان کی سمادھی پر پھول کی بجائے خون ڈال دیا گیا ہو‘۔
ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان موجودہ دوستی صرف سطحی ہے۔ ان کے مطابق ’جب ایک طاقتور ملک اپنے سے کم طاقتور ملک کے ساتھ کوئی معاہدہ یا سودا کرتا ہے تو طاقتور ملک اس طرح سے منصوبہ تیار کرتا ہے کہ کمزور ملک ہر طرف سے بندش میں آجائے اور زبردست دباؤ کے سبب کمزور ملک کسی بھی طرح اپنی مخالفت کا اظہار نہیں کر پاتا‘۔

 ہمیں یہ تو امید نہیں ہے کہ صدر بش ہندوستان نہیں آئيں گے لیکن احتجاج میں شریک ہو کر میں اس بات کا مظاہرہ کرسکتی ہوں کہ میں بش کے استقبال میں میں شامل نہیں ہوں۔
ارن دھتی

ارون دھتی کی نظر میں موجودہ کانگریس حکومت اور سابقہ بی جے پی کی حکومت کی پالیسی میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دونوں حکومتوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ موجودہ حکومت اپنے منصوبوں اور پالیسی کو ذرا بہتر انداز ميں عوام کے آگے پیش کرتی ہے۔

رائے کے مطابق ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں کو دیکھنے سے ایسا ضرور محسوس ہوتا ہے کہ ملک ترقی کی راہ پر ہے لیکن ملک میں بیشتر مقامات ایسے ہیں جہاں ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک پہنچنے کے لئے بھی کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔

صدر بش کی ہندوستان آمد کے خلاف ارن دھتی رائے نے کئی تنظیموں کے ساتھ مل کر احتجاج شروع کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جمعہرات کو دلی میں ایک بڑی ریلی منعقد کی جا رہی ہے اور وہ اس میں شرکت کرنے ضرور جائيں گی۔

’ہمیں یہ تو امید نہیں ہے کہ صدر بش ہندوستان نہیں آئيں گے لیکن احتجاج میں شریک ہو کر میں اس بات کا مظاہرہ کرسکتی ہوں کہ میں بش کے استقبال میں میں شامل نہیں ہوں‘۔

اسی بارے میں
’بش مشرف پر دباؤ ڈالیں‘
25 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد