’بش جیسے جنگی مجرم کا استقبال‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی شہرت یافتہ مصنف اور کارکن ارون دھتی رائے کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں جس طرح کا غیر محفوظ ماحول پیدا ہو رہا ہے اس کے نتائج کافی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش کے ہندوستان دورے پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر بش کی آمد سے سماج کا امیر طبقہ ہی فیض یاب ہو گا۔ بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں ارن دھتی رائے کا کہنا تھا کہ یہ بے حد افسوسناک بات ہے کہ بش جیسے ’جنگی مجرم‘ کا ہندوستان میں استقبال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق دنیا میں صرف دو ہی ملک صدر بش کا استقبال کر رہے ہیں، ایک اسرائیل اور دوسرا ہندوستان۔ صدر بش ہندوستان دورے میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کی سمادھی پر بھی جائيں گے۔ ارن دھتی کا خیال ہے کہ ’صدر بش کا وہاں جانا اور وہاں پھول چڑھانا ایسا ہی ہوگا جیسے ان کی سمادھی پر پھول کی بجائے خون ڈال دیا گیا ہو‘۔ ارون دھتی کی نظر میں موجودہ کانگریس حکومت اور سابقہ بی جے پی کی حکومت کی پالیسی میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں حکومتوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ موجودہ حکومت اپنے منصوبوں اور پالیسی کو ذرا بہتر انداز ميں عوام کے آگے پیش کرتی ہے۔ رائے کے مطابق ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں کو دیکھنے سے ایسا ضرور محسوس ہوتا ہے کہ ملک ترقی کی راہ پر ہے لیکن ملک میں بیشتر مقامات ایسے ہیں جہاں ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک پہنچنے کے لئے بھی کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔ صدر بش کی ہندوستان آمد کے خلاف ارن دھتی رائے نے کئی تنظیموں کے ساتھ مل کر احتجاج شروع کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جمعہرات کو دلی میں ایک بڑی ریلی منعقد کی جا رہی ہے اور وہ اس میں شرکت کرنے ضرور جائيں گی۔ ’ہمیں یہ تو امید نہیں ہے کہ صدر بش ہندوستان نہیں آئيں گے لیکن احتجاج میں شریک ہو کر میں اس بات کا مظاہرہ کرسکتی ہوں کہ میں بش کے استقبال میں میں شامل نہیں ہوں‘۔ | اسی بارے میں ’بش مشرف پر دباؤ ڈالیں‘25 February, 2006 | پاکستان بش کے استقبال اور احتجاج کی تیاریاں28 February, 2006 | انڈیا ’امریکہ توانائی کی ضروریات سمجھے‘28 February, 2006 | پاکستان ’اسامہ کو پکڑنا ہماری ترجیح ہے‘28 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||