بش دورہ، احتجاج نہ کرنے کا فیصلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی پاکستان آمد کے موقع پر حزب اختلاف کی تمام بڑی سیاسی و دینی جماعتوں نے احتجاج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ عمران خان کی جماعت تحریک انصاف واحد جماعت ہے جس کے کارکن چار مارچ کو راولپنڈی سے پارلیمنٹ ہاؤس تک صدر بش کے دورے کے خلاف احتجاجی مارچ کرے گی۔ آج اسلام آباد میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے خلاف تین مارچ کو ملک گیر ہڑتال میں بھرپور قوت سے حصہ لینے کا اعلان کیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اس ہڑتال کو کامیاب بنائیں۔ اس سلسلے میں حزب اختلاف کی جماعتیں مظاہرے بھی کریں گے۔ تاہم صدر بش، جن کو حزب اختلاف کی جماعتیں اکثر شدید تنقید کا نشانہ بناتی ہیں انہوں نے بھی اس مرحلے پر احتجاج کرنے سے انکار کیا ہے۔ادھر حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں نے بھی صدر بش کی آمد پر احتجاج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔مجلس عمل کے رہنما لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ وہ صدر بش کی آمد کے دن کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے۔ اے آر ڈی کے ترجمان صدیق الفاروق کا کہنا ہے کہ اگر کوئی جماعت صدر بش کی آمد پر احتجاج کرنا چاہے تو وہ کر سکتی ہے مگر متحدہ اپوزیشن کی سٹیرنگ کمیٹی نے آج اسلام آباد کے اجلاس میں صرف تین مارچ کو پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے بارے میں تین مارچ کو ہونے والے احتجاج میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر حکومت بھی صدر بش کے دورے کے بارے میں کچھ نہیں کہ رہی۔ آج اسلام آباد میں صدر جنرل پرویز مشرف کی زیر صدارت نیشنل سیکیورٹی کونسل کا اجلاس ہوا۔ اس اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کہا کہ اجلاس میں صرف توہین آمیز خاکوں پر بات کی گئی۔ جب ان سے امریکی صدر کی کابل میں کانفرنس کے بارے میں سوالات کیئے گئے تو انھوں نے اس کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔ صدر بس کی پاکستان آمد کا شیڈول بھی ابھی تک جاری نہیں کیا گیا۔ امکانی طور پر صدر بش کی آمد تین مارچ کی شب یا چار مارچ کو ہوگی۔وہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس بھی کریں گے مگر کب یہ نہیں بتایا گیا۔ صدر بش کے بارے میں یہ بھی واضح نہیں ہے کہ وہ اپنے دورے کے دوران اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں واقع امریکی ایمبیسی میں قیام کریں گے یا سیرینا ہوٹل میں۔ صدر بش کی پاکستان آمد پر وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے انتظامات کو بھی مخفی رکھا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں دوستی، جب عوام بھی شریک تھے01 March, 2006 | پاکستان ’بش کے دورے سےکوئی تعلق نہیں‘01 March, 2006 | پاکستان ’بات چیت کا محور مسئلہ کشمیر ہوگا‘28 February, 2006 | پاکستان ’امریکہ توانائی کی ضروریات سمجھے‘28 February, 2006 | پاکستان ’بش مشرف پر دباؤ ڈالیں‘25 February, 2006 | پاکستان احتجاج صرف کارٹونوں کے خلاف نہیں15 February, 2006 | پاکستان کشمیر:’امریکہ مدد کرے‘13 February, 2006 | پاکستان کارٹون کے خلاف احتجاج جاری10 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||