دوستی، جب عوام بھی شریک تھے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ساٹھ کی دہائی کے اوائل میں امریکی نائب صدر لنڈن جانسن کراچی آئے تو انہوں نے بشیر احمد نامی ایک اونٹ چلانے والے سے ہاتھ ملایا اور انہیں امریکہ میں اپنے مہمان کے طور پر مدعو کیا۔ یہ واقعہ ایک ایسی پاک امریکہ دوستی کی علامت بن گیا جس میں عوام بھی شریک تھے۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں پاکستان میں سکولوں کے بچوں کو امریکہ سے آیا ہوا خشک دودھ ملتا تھا، مفت کتابیں ملتی تھیں، بڑے شہرو ں میں امریکی لائبریریاں کھلی ہوئی تھیں اور امریکی کتابوں کے اردو ترجمے دھڑا دھڑ چھپتے تھے۔ بڑے شہروں میں سرکا راما تھا جو تین سو ساٹھ کے زاویہ پر فلمیں دکھاتا تھا۔ ویت نام جنگ سے پہلے پاکستان میں امریکہ کے لیے بڑی خیر سگالی تھی۔ لوگ اسے سخی داتا سمجھتے تھے۔ بچے مفت کتابیں اور سٹکرز منگوانے کے لیے خطوں پر وائس آف امریکہ کی بجائے ’رائے صاحب امریکہ‘ بھی لکھتے تو ان کا خط مکتوب الیہ کو پہنچ جاتا تھا اور انہیں کتابیں مل جاتی تھیں۔ پنجاب اسمبلی کے پیچھے لاہور کے گھٹا گراؤنڈ میں جہاں اب سرکاری عمارتیں بن گئی ہیں امریکیوں نے ایک سرکاراما بنایا تھا جو ایسا ہائی ٹیک فلم تھیٹر تھا جو اب بھی پاکستان میں نہیں ہے۔ یہ اتنا مقبول ہوا کہ ایک پنجابی فلم کا کردار گانا گاتا ہوا نظر آتا ہے۔ چلدا پھردا نواں ڈرامہ لاہور میں ہی بینک سکوائر پر جہاں چودہ فروری کو میکڈونلڈ کو آگ لگائی گئی امریکی لائبریری تھی جہاں بچے ذوق و شوق سے جاتے تھے اور حیران ہوتے تھے کہ یہ شدید گرم موسم میں بھی ٹھنڈی رہتی ہے۔ آج شملہ پہاڑی کے قریب امریکی سینٹر بند پڑا ہے اور اس کے باوجود درجنوں پولیس اورینجرز کےلوگ اس کی حفاظت پر مامور ہیں۔ ان دنوں پاکستان میں اگر کسی سے پوچھا جائے کہ ان کے ملک میں امریکہ سے کیا چیزیں آئی ہیں تو وہ نام لیں گے: میکڈونلڈ، کے ایف سی، سٹی بینک اور ایف سولہ طیارے۔ پچاس سال پہلے پاکستان کی حکومت کا امریکہ سے اشتراک ایک نوزائیدہ ملک کے لیے جدید اسلحہ اور مالی امداد کے لیے تھا۔
ساٹھ کی دہائی میں پاکستان میں غدائی قلت ہوئی تو امریکہ نے پاکستان کو بڑی مقدار میں پی ایل چار سو اسی کے تحت گندم دی اور لوگوں نے پہلی بار امریکی گندم کا مزا چکھا۔ یہ پنجاب کے عوام میں لال کنک کے نام سے مشہور ہوئی۔ امریکی گندم کراچی کی بندرگاہ پر اترتی تھی تو اونٹوں کے ذریعے اسے لاد کر دوسری جگہ منتقل کیا جاتا تھا۔ ان اونٹوں کے گلوں میں ’شکریہ امریکہ‘ کے کارڈز لٹکے ہوتے تھے اور دو ہاتھوں کو مِلتے ہوئے دکھانے کا ایک نشان بنا ہوتا تھا جو پاک امریکہ دوستی کی علامت تھی۔ خشک دودھ اور گندم ہی نہیں پاکستان کو دل کی سرجری بھی امریکہ سے ملی جس کی ایک الگ کہانی ہے۔ انیس سو اکسٹھ میں صدر کنیڈی کے دور میں امریکہ کے نائب صدر لنڈن جانسن (جو بعد میں صدر بنے) بھی کراچی آئے تو ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ نائب صدر جانسن نے کراچی میں ایک اونٹ گاڑی والے کو دیکھا جس نے اپنے اونٹ کے گلے میں امریکہ کے اظہار تشکر کے لیے کارڈ لٹکایا ہوا تھا اور اچک اچک کر مسٹر جانسن کی ایک جھلک دیکھنے کی کوشش کررہا تھا۔ جانسن نے اپنی گاڑی رکوائی اور سکیورٹی والوں کو ششدر کرتے ہوئے اونٹ گاڑی تک جاپہنچے۔ انہوں نے بشیر ساربان سے ہاتھ ملایا، انہیں تھپکی دی اور اپنا دوست کہا۔ جانسن نے بشیر ساربان کو امریکہ آنے کی دعوت بھی دی۔ پاکستان کے میڈیا میں اس واقعہ کی بڑی تشہیر ہوئی اور جانسن ایک عوام دست شخص کے طور پر سامنے آئے۔
انہوں نے بشیر احمد کو امریکہ بلا تو لیا لیکن امریکی اس بات پر پریشان تھے کہ بشیر ساربان جو ایک دیہاتی سے آدمی ہیں جب امریکہ آئیں گے تو امریکی میڈیا ان کا مذاق اڑائے گا اور انتظامیہ کے لیے بہت پشیمانی کا باعث بنے گا۔ امریکی پریس نے بشیر احمد کی کوریج پر اپنے مزاح نگار مقرر کردیے تھے۔ میڈیا سے بچنے کے لیے جانسن نے بشیر احمد کو واشنگٹن پہنچنے پر جلدی سے ٹیکساس میں اپنے زرعی فارم پر لے گئے۔ تاہم امریکیوں کی توقعات کے برعکس بشیر احمد ساربان نے پروقار رویہ کا مظاہرہ کیا اور ان کی سادہ لیکن دانشمندانہ باتیں لوگوں کو بہت اچھی لگیں۔ جلد ہی پریس کو ان سے ملنےکی اجازت دے دی گئی اوربشیر ساربان ایک مقبول اور پرکشش شخصیت کے طور پر جانسن کے لیے بہت اچھی میڈیا پبلسٹی ثابت ہوئے۔ انہی دنوں پاکستان میں ایک فیکٹری فورمین کی پانچ سالہ بیٹی کو دل کی تکلیف ہوئی اور ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ اس کا علاج صرف امریکہ میں ممکن ہے جہاں ابھی دل کی سرجری شروع ہوئی تھی۔ فورمین نے اخبار میں بشیر ساربان کو امریکہ میں مدعو کیے جانے کے بارے میں پڑھا تو امریکی سفارت خانہ سے کہا کہ جب ان کا ملک ایک اونٹ گاڑی والے کو امریکہ بلاسکتا ہے تو ان کی بیٹی کو سرجری کے لیے کیوں نہیں بلا سکتا جو اس بات کی زیادہ مستحق ہے۔ پانچ سالہ افشاں ظفر کو بالاخر کیلیفورنیا کے وائٹ مین میڈیکل سینٹر بلایا گیا جہاں ان کے دل کا کامیاب آپریشن ہوا۔ اس کے بعد امریکی سفارت خانہ میں دل کی سرجری کرانے کے لیے امریکہ جانے کے خواہشمند افراد کی درخواستوں کے انبار لگ گئے۔ اسے دیکھتے ہوئے امریکی نائب صدر جانسن نے دل کی سرجری شروع کرنے والے امریکی ڈاکٹروں کو بلایا اور کہا کہ وہ یہ سرجری برآمد کریں اور دوسرے ملکوں میں بھی یہ آپریشن کریں۔
اس طرح دل کی سرجری شروع کرنے والی پہلی امریکی ٹیم جس میں ڈاکٹر جان کوگن شامل تھیں اپنے ساز سامان کے ساتھ کراچی آئیں اور وہاں دل کے آپریشن کیے۔ یوں پاکستان میں دل کی سرجری کی ابتدا ہوئی۔ تاہم ان دلبرانہ اداؤں کے باجود آنے والے دنوں میں امریکہ پاکستانیوں کے دل نہ جیت سکا اور رفتہ رفتہ پاک امریکہ تعلقات دو حکومتوں تک محدود ہوگئے۔ عوام ان سے نکل گئے۔ امریکہ پاکستان میں ولن اس وقت بننا شروع ہوا جب ویت نام جنگ میں امریکی فوجوں کی زیادتیوں کی خبریں آنے لگیں اور بائیں بازو نے اس کے خلاف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پراپیگنڈہ کیا۔ انیس سو اکہتر کی جنگ میں پاکستان امریکہ کے بحری بیڑے کا ایک مسیحا کے طور پر انتظار کر رہا تھا لیکن وہ نہیں آیا اور ایک طعنہ اور مذاق بن گیا۔ افغانستان میں سوویت روس کے خلاف جنگ میں پاکستان نے امریکہ کی مدد کی اور جب روس وہاں سے نکل گیا تو امریکہ نے پاکستان سے تعاون کا ہاتھ کھینچ لیا۔ چار مارچ کو پاکستان میں صدر بش کی آمد کے موقع پر ایسے سخت حفاظتی اقدامات کیے جارہے ہیں کہ وہ شائد کسی بشیر ساربان سے ہاتھ نہ ملاسکیں۔ امریکہ کو سوچنا ہوگا کہ آج پاک امریکہ تعلقات میں عوام کیوں شریک نہیں؟ | اسی بارے میں ’بش مشرف پر دباؤ ڈالیں‘25 February, 2006 | پاکستان بش سے باجوڑ پر بات ہوگی: شوکت22 January, 2006 | پاکستان صدر مشرف امریکہ کے دورے پر 11 September, 2005 | پاکستان صدر مشرف امریکہ پہنچ گئے19 September, 2004 | پاکستان پاک امریکہ بحری مشقیں شروع21 June, 2005 | پاکستان ’پاک امریکہ تعاون مزید بڑھےگا‘09 November, 2004 | پاکستان پاک امریکہ میٹنگ نہیں ہو سکی 26 May, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||