پاک امریکہ بحری مشقیں شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی اور امریکی بحریہ نے بحیرہ عرب کے شمال میں مشترکہ جنگی مشقوں کا آغاز کردیا ہے۔ اٹھائیس جون تک جاری رہنے والی ان مشقوں کو دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کے اتحادی کردار کے حوالے سے اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے۔ ’انسپائرڈ یونین فائیو‘ نامی ان مشقوں میں حصہ لینےکی غرض سے دو امریکی جہاز ’یو ایس کافمین‘ بحرین سے جبکہ ’یوایس ہا ز‘ خصوصی طور پر امریکہ سے کراچی لائے گئے ہیں۔ گزشتہ سات سال میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ امریکی جہاز بحیرہ عرب میں کراچی کے پانی میں داخل ہوئے ہیں۔ جدید جہازوں کے علاوہ ان مشقوں میں آبدوزاور ہیلی کاپٹر بھی حصہ لیں گے۔ آئی ایس پی آر کے ایک اعلامیہ کے مطابق یہ مشترکہ جنگی مشقیں پاکستانی اور امریکی بحریہ کواتحادی اور علاقائی طاقتوں کو اپنی معاونت اور حکمتِ عملیوں سے متعلق صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقعہ فراہم کریں گی جو علاقائی امن کے سلسلے میں سمندری آپریشن کا حصہ بن سکتا ہے۔ امریکی بحریہ کے پچاسویں ڈیسٹرائر اسکوارڈن سے وابستہ کموڈور ہینگ مرانڈا نے پیر کوامریکی جہاز ’یوایس کافمین‘ پر ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ دونوں ملکوں کی بحری افواج ایک پیچیدہ قسم کی جنگی مشقوں میں حصہ لے رہے ہیں جس میں بحری فوجیوں کی ان صلاحیتوں کو جلا ملتی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ استعمال نہ کرنے کی صورت میں خرابی کی طرف مائل ہوجاتی ہے۔ کئی سوالوں کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انسپائرڈ یونین مزید دو حصوں میں تقسیم کی گئی ہے جس کے انسپائرڈ ریسپونس والے حصے میں کراچی کے نیول ہیڈ کوارٹرز میں زیرِ آب جنگی حکمتِ عملیوں کی تربیت دی جارہی ہے جبکہ انسپائرڈ سائرن کے تحت نیلے پانی یعنی کھلے سمندر میں جہازوں اور آبدوزوں کو استعمال کرتے ہوئے مشقیں کی جارہی ہیں۔ ہینگ مرانڈا کے مطابق اس مشترکہ مشقوں کا مقصد امریکہ کے اتحادی پاک بحریہ سے تعلقات بڑھاناہے ’تاکہ ہم ایک ٹیم کے طور پرگہرے نیلے پانی میں مشترکہ آپریشن کر سکیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ مشقیں کئی سالوں سے کر رہے ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ایک روٹین کی مشقیں ہیں۔ان کے مطابق یہ مشقیں بھی پیچیدہ نوعیت کی ہیں۔ پاک بحریہ کےکموڈور اظہر حیات کے مطابق دونوں ممالک کی بحری فوجیں کئی برس سے تقریباً ہر سال مشترکہ جنگی مشقیں کررہی ہیں جس کا بنیادی مقصد ایک دوسرے کے تجربات اور اہلیت سے استفادہ کرنا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اس مرتبہ یہ جنگی مشقیں دو سال کے بعد ہورہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان بحریہ کے بھی دو جہاز ’پی این ایس طارق‘ اور ’شاہجہاں‘ ان مشقوں میں حصہ لے رہے ہیں اور ان مشقوں میں کوئی بھی چھپانے والی بات نہیں ہے۔ واضح رہے کہ یہ دونوں پاکستانی جہاز اس سے پہلے خلیج میں اب تک کی سب سے بڑی جنگی مشقوں میں امریکی بحری بیڑوں کے ساتھ حصہ لے چکے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||