بش سے باجوڑ پر بات ہوگی: شوکت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیرِاعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر جارج بش سے ملاقات میں باجوڑ کے سانحے کو ضرور اٹھائیں گے، لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ اس واقعے پر امریکہ سے معافی کا مطالبہ کریں گے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم مل کر کام ضرور کر رہے ہیں افغانستان اور امریکہ سے، مگر جو رولز آف دی گیم (کھیل کے اصول) ہیں ان کے مطابق کام ہونا چاہیے‘۔ وزیرِاعظم شوکت عزیز نے نیویارک میں بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ایک دفعہ پھر دہرایا کہ ابھی تک پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو باجوڑ میں حملے کے وقت غیر ملکیوں کی موجودگی کا حتمی ثبوت نہیں ملا لیکن جو کچھ بھی ہوگا سامنے آ جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ چیزیں چھپ نہیں سکتیں اور یہ پاکستان کے مفاد میں بھی نہیں ہے۔ اگر وہ غیر ملکی تھے تو ہم ضرور سب کو بتائیں گے۔ اگر نہیں تھے تو بھی بتائیں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے باوجود پاکستان کی عالمی ممالک سے دہشت گردی کے خلاف مدد جاری رہے گی کیونکہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک کی حیثیت سے دہشت گردی کے خلاف ہے۔ ڈیرہ بگٹی میں حال ہی میں انیس افراد کی ہلاکت پر شوکت عزیز کا کہنا تھا کہ ’ کوئی بھی اس علاقے میں جا کر دیکھ سکتا ہے کہ حکومت کسی عام شہری کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی‘۔ وزیرِاعظم شوکت عزیز جو امریکہ کے ایک ہفتے کے دورے پر ہیں چوبیس جنوری کو واشنگٹن میں امریکی صدر جارج بش سے ملاقات کریں گے۔ اس سے پہلے وہ وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ اور وزیر خارجہ کونڈالیزا رائس سے بھی ملیں گے۔ وزیرِاعظم شوکت عزیز نے کہا کہ پاکستان ایران سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اور ایران کے جوہری پروگرام پر وہ پاکستان کا یہ موقف امریکی صدر بش کے سامنے پیش کر دیں گےکہ پاکستان جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خلاف ہے لیکن ایران کے جوہری توانائی حاصل کرنے کے خلاف نہیں کیونکہ کسی بھی ملک کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی حاصل کرنے کا حق ہے۔ امریکی انڈر سیکرٹری برائے امورِ خارجہ نکولس برنز، جو آج کل پاکستان کے دورے پر ہیں، کئی دفعہ کہہ چکے ہیں کہ ایران کو الگ تھلگ یا آئسولیٹ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس پر جوہری تحقیق روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ وزیرِاعظم شوکت عزیز نے کہا کہ پاکستان کے علاوہ روس، چین اور کئی دیگر ممالک بھی کوشش کر رہے ہیں ایران کے ساتھ یہ معاملہ بات چیت سے حل کیا جائے۔
وزیرِاعظم شوکت عزیز نے کہا کہ انہیں اقوام ِمتحدہ پہنچ کر یہ پتہ چلا کہ مختاراں مائی کا اقوام متحدہ کا دورہ منسوخ کردیا گیا ہے اور انہیں نہیں معلوم اس کی کیا وجوہات ہیں۔ وزیرِاعظم شوکت عزیز نے مختاراں مائی کو پاکستان کی ایک اچھی نمائندہ قرار دیا۔ پنجاب کے گاؤں میروالا سے تعلق رکھنے والی مختاراں مائی نے بیس فروری کو اسی وقت اقوام متحدہ میں ایک تقریب میں شرکت کرنی تھی جب پاکستانی وزیر اعظم شوکت عزیز کا دورہ تھا۔ اطلاعات کے مطابق پاکستانی مشن نے دباؤ ڈال کر یہ دورہ ملتوی کروا دیا جس کے نتیجے میں ایک تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ مختاراں مائی اور حکومت پاکستان کے حوالے سے اس سے پہلے بھی تنازعہ کھڑا ہو چکا ہے جب حکومت نے مختصر وقت کے لیے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈال دیا تھا اور ان کے ملک سے باہر جانے پر پابندی لگا دی تھی۔ بعد میں بین الاقوامی دباؤ کے تحت یہ پابندی ہٹا دی گئی۔ وزیرِاعظم شوکت عزیز چوبیس تاریخ کو پاکستان واپس روانہ ہو جائیں گے۔ | اسی بارے میں ’غیرملکی مرنے کا ثبوت نہیں‘21 January, 2006 | پاکستان ’جب دوستی میں کمی آئی نقصان ہوا‘19 January, 2006 | پاکستان امریکی حملے نہ ہوں: مشرف21 January, 2006 | پاکستان اقوام متحدہ: مائی کا پروگرام ملتوی21 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||