BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جب دوستی میں کمی آئی نقصان ہوا‘

پاکستان کے وزیرِاعظم شوکت عزیز
اگر امریکہ افغانستان کو نہ چھوڑتا تو شاید نائن الیون کا واقعہ نہ ہوتا: شوکت عزیز
پاکستانی وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کی دوستی میں جب بھی کمی آئی ہے دونوں ہی ملکوں کو نقصان ہوا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے بدھ کو امریکہ کے سب سے بڑے شہر نیو یارک میں کونسل آن فارن ریلیشنز اور ایشیاء سوسائٹی کے تحت ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ’جب بھی پاکستان اور امریکہ کی دوستی میں جب بھی کمی آئی ہے دونوں ہی ملکوں کو نقصان ہوا ہے‘۔

افغانستان کی مثال دیتے ہوئے کہا شوکت عزیز نے کہا کہ روسی فوجوں کی واپسی کے بعد امریکہ قبل از وقت وہاں سے نکل گیا جس کے نتیجے میں وہاں خانہ جنگی شروع ہو گئی اور ایسے حالات پیدا ہو گئے جو خطے اور دنیا بھر کے امن کے لیے خطرہ بنے۔

شوکت عزیز کے مطابق اس پالیسی کی وجہ سے پاکستان کو منشیات اور کلاشنکوف کلچر کا سامنا کرنا پڑا جب کہ امریکہ میں گیارہ ستمبر کا واقعہ ہوا۔

کونسل آن فارن ریلیشنز کا امریکہ میں خارجہ پالیسی کے لحاظ سے سب سے اہم اداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ادارے کے چالیس کے قریب ’فیلو‘ آج کی دنیا کے ہر خطے اور ہر اہم موضوع پر تحقیق کرتے ہیں اور مہارت رکھتے ہیں۔ امریکی حکومت اکثر اس ادارے سے مشورے مانگتی ہے۔

شوکت عزیز نے ایران کے جوہری معاملے کو بات چیت سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے ایران کے معاملے میں طاقت کے استعمال سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ روس اور چین اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

حاضرین کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے پاکستان وزیر اعظم نے باجوڑ پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکومت اس حملے کی مذمت کرتی ہے اور اس سے پاکستانی عوام کو بے حد صدمہ پہنچا ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم کے اس دورے میں جتنی اہمیت سیاست کو دی جا رہی ہے اس سے زیادہ اہمیت معیشت کو دی جا رہی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم کے دورے کے دوران زیادہ تر ملاقاتیں بڑی بڑی امریکی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز سے ہیں۔

ان میں سے دو اہم ملاقاتیں امریکی ٹیکسٹائل امپورٹرز سے اور امریکہ میں آئی ٹی یا انفارمیشن ٹیکنالوجی آؤٹ سورس کرنےوالی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز سے ہیں۔

امریکہ میں آئی ٹی یا کمپیوٹرز کے شعبے میں کام کرنے والوں کی تنخواہیں عموماً کافی زیادہ ہوتی ہیں جس کی وجہ سے اس کام کو آؤٹ سورس کرنے، یعنی اسے امریکہ سے باہر دیگر ممالک سے کم پیسوں میں کرانے کا رواج پچھلے کئی سالوں سے بہت زور پکڑ چکا ہے اور ہر سال کروڑوں ڈالر کا کام آؤٹ سورس کیا جاتا ہے۔

وزیرِاعظم شوکت عزیز بائییس تاریخ تک نیویارک میں ہیں۔ اس دوران وہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان سے ملاقات کریں گے اور جمعہ کی صبح ساڑھے نو بجے نیویارک سٹاک ایکسچینج کی گھنٹی بجا کر اس کا آغاز کریں گے۔

بائیس سے چوبیس تک وزیرِاعظم امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ہوں گے جہاں ان کی ملاقاتیں امریکی صدر جارج بش کے علاوہ امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ، وزیر خارجہ کونڈالیزا رائس، نائب صدر ڈک چینی اور ورلڈ بینک کے صدر پال وولفووٹز سے بھی ہونگی۔

اسی بارے میں
’سردی ہزاروں کو مار دے گی‘
25 November, 2005 | پاکستان
’اب ایک اور سانحے کا خدشہ‘
25 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد