’فیصلہ امریکہ نہیں ہم کریں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزير اعظم منموہن سنگھ نے امریکہ سے مجوزہ جوہری معاہدے کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ اس معاہدے سے ہندوستان کے جوہری پرگرام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ہند امریکہ مجوزہ جوہری معاہدے کی مخالفت حزب اختلاف کی جماعتیں ہی نہیں بلکہ حکومت کی کئی اتحادی جماعتیں بھی کر رہی ہیں۔ ان جماعتوں کی تشویش ہے کہ اس معاہدے کے تحت ہندوستان کے جوہری پروگرام کی آزادای ختم ہو جائے گی۔ ان خدشات کو دور کرنے کے لئے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے پیر کے روز پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ایک بیان دیا۔ مسٹر سنگھ نے کہا کہ امریکہ کے صدر جارج بش کے ساتھ 18 جولائی کا اعلان ہمارے فوجی پروگرام کے بارے میں نہیں تھا۔ اس کا مقصد ہماری سویلین جوہری توانائی کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ ان اندیشوں کے بارے میں کہ امریکہ کوئی دباو ڈال رہا ہے مسٹر سنگھ نے کہا کہ امریکہ نے کئی تجاویز پیش کی ہیں مگراسکا فیصلہ ہندوستان ہی کرے گا کون سی تنصیب سویلین ہے اور کون سی فوجی۔ مسٹر سنگھ نے مزید کہا ہے کہ جوہری تنصیبات کو جوہری اور غیر فوجی تنصیبات میں الگ کرنے کا معاملہ بھی مشروط ہے اور اس کے لئے امریکہ کو بعض اقدامات کرنے ہوں گے۔ ’معاہدے کے معاملے میں امریکہ کا جوابی قدم بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ ہندوستان جو قدم اٹھائے گا اس کے جواب ميں امریکہ بھی اپنے دعوے پورے کرے گا۔ اور اس عمل میں ہندوستان کے فوجی پروگرام سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔‘ اس مجوزہ معاہدے پر امریکہ کے صدر جارج بش کے یکم مارچ سے ہندوستان کے دورے کے وقت دستخط کئے جانے کی توقع ہے۔ اس معاہدے کی امریکی کانگریس میں منظوری کے بعد ہندوستان وہ جوہری ٹکنولوجی حاصل کر سکے گا جس پر گزشتہ تقریباً تین عشرے سے پابندی عائد ہے۔ | اسی بارے میں بھارت اور امریکہ میں جوہری تعاون 19 July, 2005 | انڈیا بعض معاملات پر اختلاف ہیں: برنز23 February, 2006 | انڈیا ایران تنازعہ:امریکی سفیر کی طلبی27 January, 2006 | انڈیا بھارت-امریکہ جوہری معاہدہ اور مشکلات21 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||