بھارت اور امریکہ میں جوہری تعاون | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کا کہنا ہے کہ اس کے سویلین نیوکلئیر پروگرام کے بارے میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ امریکی صدر بش اور انڈین وزیر اعظم منموہن سنگھ کے درمیان ملاقات کے بعد جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے امریکہ انڈیا کے ساتھ سویلین نیوکلئیر پروگرام کے سلسلے میں مکمل تعاون کرے گا۔ امریکہ میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم تبدیلی ہے۔ سن انیس سو اٹھانوے میں انڈیا کی طرف سے نیوکلئیر دھماکوں کے بعد امریکہ نے انڈیا پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان طے ہونے والے معاہدے کو اگر نیوکلئیر ممالک اور کانگریس نے منظور کردیا تو انڈیا پر سول مقاصد کے لئے نیوکلئیر ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے سلسلے میں عائد پابندیاں ختم ہوجائیں گی۔ اس معاہدے کے تحت انڈیا نیوکلئیر ایندھن اور ری ایکٹر کے پرزے امریکہ سے حاصل کر سکے گا اور اس کے عوض بین الاقوامی معائنہ کاری کی اجازت دے گا اور مزید نیوکلئیر تجربات نہیں کرے گا اور دوسرے ممالک کو یہ ٹیکنالوجی نہیں دے گا۔ تاہم ان مذاکرات کے نتیجے میں انڈیا اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی مستقل رکنیت حاصل کرنے کے سلسلے میں امریکی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ دونوں رہنماؤں کی ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر بش نے انڈیا کی سیکورٹی کونسل میں مستقل رکنیت کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||